قرآني·Qurani
اردو

التفسير

774 احادیث · #2950–3723

حدیث 3200 — جامع الترمذي 47:252
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ سُمِّيتُ بِهِ لَمْ يَشْهَدْ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَبُرَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَوَّلُ مَشْهَدٍ شَهِدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غِبْتُ عَنْهُ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ أَرَانِيَ اللَّهُ مَشْهَدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ ‏.‏ قَالَ فَهَابَ أَنْ يَقُولَ غَيْرَهَا فَشَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو أَيْنَ قَالَ وَاهًا لِرِيحِ الْجَنَّةِ أَجِدُهَا دُونَ أُحُدٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ فَوُجِدَ فِي جَسَدِهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ وَطَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ فَقَالَتْ عَمَّتِي الرُّبَيِّعُ بِنْتُ النَّضْرِ فَمَا عَرَفْتُ أَخِي إِلاَّ بِبَنَانِهِ ‏.‏ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةَُ ‏:‏ ‏(‏رجالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، ( اس کا مجھے بےحد افسوس ہے ) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے ( اور بچتے ) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: ابوعمرو! کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا: اے واہ! میں تو احد پہاڑ کے پرے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں پھر وہ لڑے اور اس شان سے لڑے کہ شہید کر دیئے گئے، ان کے جسم میں اسی ( ۸۰ ) سے کچھ زائد چوٹ تیر و نیزہ کے زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی الله عنہا نے کہا: میں اپنے بھائی کی نعش صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان پائی، اسی موقع پر آیت «رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» ”ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدے کیے تھے ان میں وہ پورے اترے، ان میں سے کچھ تو انتقال کر گئے اور کچھ لوگ مرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اس میں یعنی ( اللہ سے کیے ہوئے اپنے معاہدہ میں کسی قسم ) کی تبدیلی نہیں کی“ ( الاحزاب: ۲۳ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3201 — جامع الترمذي 47:253
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَمَّهُ، غَابَ عَنْ قِتَالِ، بَدْرٍ فَقَالَ غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ، قِتَالٍ قَاتَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُشْرِكِينَ لَئِنِ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالاً لِلْمُشْرِكِينَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ كَيْفَ أَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلاَءِ ‏.‏ يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ وَأَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا يَصْنَعُ هَؤُلاَءِ ‏.‏ يَعْنِي أَصْحَابَهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِيَهُ سَعْدٌ فَقَالَ يَا أَخِي مَا فَعَلْتَ أَنَا مَعَكَ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ ‏.‏ فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ فَكُنَّا نَقُولُ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ نَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏فمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ يَزِيدُ يَعْنِي هَذِهِ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَاسْمُ عَمِّهِ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا ( انس بن نضر ) بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے، انہوں نے ( افسوس کرتے ہوئے ) کہا: اس پہلی لڑائی میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے لڑائی میں غیر موجود رہا، اب اگر اللہ نے مشرکین سے مجھے کسی جنگ میں لڑنے کا موقع دیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں ( بے جگری و بہادری سے کس طرح لڑتا اور ) کیا کرتا ہوں۔ پھر جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع آیا، اور مسلمان ( میدان سے ) چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے یہ لوگ یعنی مشرکین لے کر آئے ہیں اور ان سے یعنی آپ کے صحابہ سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے، اس کے لیے تجھ سے معذرت خواہ ہوں، پھر وہ آگے بڑھے، ان سے سعد بن معاذ رضی الله عنہ کی ملاقات ہوئی، سعد نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ جو بھی کریں میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں، ( سعد کہتے ہیں ) لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ میں نہ کر سکا، ان کی لاش پر تلوار کی مار کے، نیزے گھوپنے کے اور تیر لگنے کے اسّی ( ۸۰ ) سے کچھ زیادہ ہی زخم تھے، ہم کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آیت «فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» اتری ہے۔ یزید ( راوی ) کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ( پوری ) آیت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس بن مالک کے چچا کا نام انس بن نضر رضی الله عنہما ہے۔
حدیث 3202 — جامع الترمذي 47:254
حسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَلاَ أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثَ مُعَاوِيَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”طلحہ رضی الله عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «ممن قضى نحبه» فرمایا ہے“، یعنی جو اپنا کام پورا کر چکے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدیث 3203 — جامع الترمذي 47:255
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى، ابْنَىْ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِمَا، طَلْحَةَ أَنَّ أَصْحَابَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالُوا لأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ وَكَانُوا لاَ يَجْتَرِئُونَ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ فَسَأَلَهُ الأَعْرَابِيُّ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَىَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَعْرَابِيُّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ ‏.‏
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے اعراض کیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور ( اندر آیا ) میں ( نمایاں ) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ” «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے“؟ اعرابی، ( گنوار دیہاتی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ( طلحہ ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدیث 3204 — جامع الترمذي 47:256
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ ‏"‏ يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَاىَ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ‏:‏ ‏(‏ يا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ ‏)‏ حَتَّى بَلَغَ ‏:‏ ‏(‏ للْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا ‏)‏ فَقُلْتُ فِي أَىِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَىَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ وَفَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ مَا فَعَلْتُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ۱؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منكن أجرا عظيما» ۲؎ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ ( نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے۔
حدیث 3205 — جامع الترمذي 47:257
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَّ ‏:‏ ‏(‏ إنمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ‏)‏ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَعَا فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ هَؤُلاَءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ عَلَى خَيْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ‏.‏
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین ( رضی الله عنہم ) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔
حدیث 3206 — جامع الترمذي 47:258
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلاَةِ الْفَجْرِ يَقُولُ ‏"‏ الصَّلاَةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ ‏:‏ ‏(‏ إنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» ”اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو“ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوالحمراء، معقل بن یسار اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 3207 — جامع الترمذي 47:259
Very Daif IsnaadVery Daif Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْىِ لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ ‏:‏ ‏(‏ إِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏)‏ يَعْنِي بِالإِسْلاَمِ ‏:‏ ‏(‏ وأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ ‏)‏ بِالْعِتْقِ فَأَعْتَقْتَهُ ‏:‏ ‏(‏ أمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ ‏)‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏وكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولاً ‏)‏ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمَّا تَزَوَّجَهَا قَالُوا تَزَوَّجَ حَلِيلَةَ ابْنِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏ ما كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ‏)‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَبَنَّاهُ وَهُوَ صَغِيرٌ فَلَبِثَ حَتَّى صَارَ رَجُلاً يُقَالُ لَهُ زَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ ادعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ‏)‏ فُلاَنٌ مَوْلَى فُلاَنٍ وَفُلاَنٌ أَخُو فُلاَنٍ ‏(‏هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ‏)‏ يَعْنِي أَعْدَلُ عِنْدَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ قَدْ رُوِيَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَوْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْىِ لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَ ‏:‏ ‏(‏ إِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ ‏)‏ الآيَةَ هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يُرْوَ بِطُولِهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَضَّاحٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه» ”جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی ( اسے آزاد کر کے ) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے ( لعن طعن ) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو“، سے لے کر «وكان أمر الله مفعولا» تک چھپا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے ( زینب سے ) شادی کر لی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے ( لے پالک ) بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين» ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ( آخری نبی ) ہیں“، نازل فرمائی، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہو گئے، اور ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”انہیں ان کے ( اصلی باپ کی طرف ) منسوب کر کے پکارو ( جن کے نطفے سے وہ پیدا ہوئے ہیں ) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف بات ہے، لیکن اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو ( کہ وہ کون ہیں ) تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“، فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ۴؎، «هو أقسط عند الله» یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پورا انصاف ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» چھپاتے، ( اس روایت میں ) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ۵؎۔
حدیث 3208 — جامع الترمذي 47:260
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ لَوْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم كَاتِمًا شَيْئًا مِنَ الْوَحْىِ لَكَتَمَ هَذِهِ الآيَةَِ ‏:‏ ‏(‏ إذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» کو چھپاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3209 — جامع الترمذي 47:261
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَا كُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلاَّ زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ‏:‏ ‏(‏ ادعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر ہی پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”ایسے لوگوں کو ان کے اصلی باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو یہی اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے“ ( الاحزاب: ۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔