علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء» ۱؎ نازل ہوئی۔ تو اس نے ہم سب کو فکرو غم میں مبتلا کر دیا۔ ہم نے کہا: ہم میں سے کوئی اپنے دل میں باتیں کرے پھر اس کا حساب لیا جائے۔ ہمیں معلوم نہیں اس میں سے کیا بخشا جائے گا اور کیا نہیں بخشا جائے؟، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت» ۲؎ اور اس آیت نے اس سے پہلی والی آیت کو منسوخ کر دیا ہے۔
امیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» ۱؎ اور ( دوسرے ) قول «من يعمل سوءا يجز به» ۲؎ کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطلب پوچھا ہے تب سے ( تمہارے سوا ) کسی نے مجھ سے ان کا مطلب نہیں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ اللہ کی جانب سے بخار اور مصیبت ( وغیرہ ) میں مبتلا کر کے بندے کی سرزنش ہے۔ یہاں تک کہ وہ سامان جو وہ اپنی قمیص کی آستین میں رکھ لیتا ہے پھر گم کر دیتا ہے پھر وہ گھبراتا اور اس کے لیے پریشان ہوتا ہے، یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ویسے ہی پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ سرخ سونا بھٹی سے ( صاف ستھرا ) نکلتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» نازل ہوئی تو لوگوں کے دلوں میں ایسا خوف و خطر پیدا ہوا جو اور کسی چیز سے پیدا نہ ہوا تھا۔ لوگوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی تو آپ نے فرمایا: ” ( پہلے تو ) تم «سمعنا وأطعنا» کہو یعنی ہم نے سنا اور ہم نے بے چون و چرا بات مان لی، ( چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کہا ) تو اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا۔ اور اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں «آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون» سے لے کر آخری آیت «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا»، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا ( تمہاری دعا قبول کر لی ) “ «ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا» ”ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے تمہارا کہا کر دیا“، «ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به واعف عنا واغفر لنا وارحمنا» ”اے اللہ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جس کی طاقت ہم میں نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما“، اللہ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا ( یعنی تمہاری دعا قبول کر لی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما سے دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» ۲؎ کی تفسیر پوچھی۔ تو آپ نے فرمایا: ”جب تم انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو ( کہ یہی لوگ اصحاب زیغ ہیں ) ۔ یزید کی روایت میں ہے ”جب تم لوگ انہیں دیکھو تو انہیں پہچان لو“ یہ بات عائشہ رضی الله عنہا نے دو یا تین بار کہی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ”قاسم بن محمد“ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کا ذکر صرف ”یزید بن ابراہیم تستری“ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے، ۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا نبیوں میں سے کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، اور میرے دوست میرے باپ اور میرے رب کے گہرے دوست ابراہیم ہیں۔ پھر آپ نے آیت «إن أولى الناس بإبراهيم للذين اتبعوه وهذا النبي والذين آمنوا والله ولي المؤمنين» ۱؎ پڑھی“۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک ( مشترک ) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت: «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ۱؎ یا «من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا» ۲؎ نازل ہوئی۔ اس وقت ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس ایک باغ تھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے، اگر میں اسے چھپا سکتا ( تو چھپاتا ) اعلان نہ کرتا ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( واقعی ) حاجی کون ہے؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”وہ حاجی جس کا سر گردوغبار سے اٹ گیا ہو جس نے زیب و زینت اور خوشبو چھوڑ دی ہو، جس کے بدن سے بو آنے لگی ہو“ پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کون سا حج سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ حج جس میں لبیک بآواز بلند پکارا جائے، اور ہدی اور قربانی کے جانوروں کا ( خوب خوب ) خون بہایا جائے“۔ ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ( «من استطاع سبیلاً» میں ) «سبیل» سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”زاد راہ ( توشہ ) اور سواری“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی اس حدیث کو ہم نہیں جانتے سوائے ابراہیم بن یزید خوزی مکی کی روایت سے، اور بعض محدثین نے ابراہیم بن یزید کے بارے میں ان کے حافظہ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «تعالوا ندع أبناءنا وأبناءكم ونساءنا ونساءكم» ۱؎ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین رضی الله عنہم کو بلایا پھر فرمایا: ”یا اللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔