انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بسا اوقات ) ایک کلمہ تین بار دہراتے تھے تاکہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لیا جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن مثنیٰ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدیث 3641 — جامع الترمذي 49:37
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر مسکرانے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی صرف مسکراہٹ ہوتی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ ( کے پردے ) کی گھنڈی کی طرح تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت یعنی جو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان تھی کبوتر کے انڈے کے مانند سرخ رنگ کی ایک گلٹی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدیث 3646 — جامع الترمذي 49:42
صحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3648 — جامع الترمذي 49:44
ضعیفضعیفصحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّمَا الأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔