قرآني·Qurani
اردو

التفسير

774 احادیث · #2950–3723

حدیث 3670 — جامع الترمذي 49:66
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ ‏ "‏ أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔
حدیث 3671 — جامع الترمذي 49:67
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ ‏"‏ ‏.‏وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْطَبٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ دونوں ( اسلام کے ) کان اور آنکھ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدیث 3672 — جامع الترمذي 49:68
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏.‏ قَالَتْ فَقَالَ ‏"‏ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 3673 — جامع الترمذي 49:69
Very DaifVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدیث 3674 — جامع الترمذي 49:70
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ وہ خیر ہے ( جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہو گا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہو گا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے ( اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہو جانا کافی ہے ) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3675 — جامع الترمذي 49:71
حسنحسنحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالاً فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا قَالَ فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مِثْلَهُ وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اتنا ہی ( ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں ) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ”ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3676 — جامع الترمذي 49:72
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ فَقَالَتْ أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ قَالَ ‏ "‏ فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی: مجھے بتائیے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں؟ ( تو کس کے پاس جاؤں ) آپ نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
حدیث 3677 — جامع الترمذي 49:73
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ بَيْنَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً إِذْ قَالَتْ لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ آمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں ( یہ کہہ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے“، واللہ اعلم ۱؎۔
حدیث 3678 — جامع الترمذي 49:74
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِسَدِّ الأَبْوَابِ إِلاَّ بَابَ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد کی طرف کھلنے والے ) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازہ کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدیث 3679 — جامع الترمذي 49:75
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْنٍ وَقَالَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسى بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔