قرآني·Qurani
اردو

الجنائز

115 احادیث · #965–1079

حدیث 1045 — جامع الترمذي 10:81
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ، عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1046 — جامع الترمذي 10:82
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ - وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ مَرَّةً ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مَرَّةً ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَاهُ أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا أَيْضًا ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت قبر میں داخل کر دی جاتی ( اور کبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے ) جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی: «بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله»،‏‏‏‏ پڑھتے اور کبھی «بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتا ہوں“ پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ۳- نیز یہ صدیق الناجی کے واسطہ سے ابن عمر سے بھی موقوفاً مروی ہے۔
حدیث 1047 — جامع الترمذي 10:83
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الَّذِي أَلْحَدَ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبُو طَلْحَةَ وَالَّذِي أَلْقَى الْقَطِيفَةَ تَحْتَهُ شُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ جَعْفَرٌ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ شُقْرَانَ يَقُولُ أَنَا وَاللَّهِ طَرَحْتُ الْقَطِيفَةَ تَحْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْقَبْرِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ شُقْرَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ فَرْقَدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏
عثمان بن فرقد کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد سے سنا وہ اپنے باپ سے روایت کر رہے تھے جس آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بغلی بنائی، وہ ابوطلحہ ہیں اور جس نے آپ کے نیچے چادر بچھائی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ٰ شقران ہیں، جعفر کہتے ہیں: اور مجھے عبیداللہ بن ابی رافع نے خبر دی وہ کہتے ہیں کہ میں نے شقران کو کہتے سنا: اللہ کی قسم! میں نے قبر میں رسول اللہ کے نیچے چادر ۱؎ بچھائی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شقران کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حدیث 1048 — جامع الترمذي 10:84
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جُعِلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَيَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ، وَاسْمُهُ، عِمْرَانُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، وَاسْمُهُ، نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ وَكِلاَهُمَا مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُلْقَى، تَحْتَ الْمَيِّتِ فِي الْقَبْرِ شَيْءٌ ‏.‏ وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں ایک لال چادر رکھی گئی۔ اور محمد بن بشار نے دوسری جگہ اس سند میں ابوجمرہ کہا ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے بھی روایت کی ہے، ان کا نام عمران بن ابی عطا ہے، اور ابوجمرہ ضبعی سے بھی روایت کی گئی ہے، ان کا نام نصر بن عمران ہے۔ یہ دونوں ابن عباس کے شاگرد ہیں، ۳- ابن عباس سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے قبر میں میت کے نیچے کسی چیز کے بچھانے کو مکروہ جانا ہے۔ بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔
حدیث 1049 — جامع الترمذي 10:85
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ عَلِيًّا، قَالَ لأَبِي الْهَيَّاجِ الأَسَدِيِّ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْ لا�� تَدَعَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ وَلاَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ أَنْ يُرْفَعَ الْقَبْرُ فَوْقَ الأَرْضِ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ أَكْرَهُ أَنْ يُرْفَعَ الْقَبْرُ إِلاَّ بِقَدْرِ مَا يُعْرَفُ أَنَّهُ قَبْرٌ لِكَيْلاَ يُوطَأَ وَلاَ يُجْلَسَ عَلَيْهِ ‏.‏
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے ابوالہیاج اسدی سے کہا: میں تمہیں ایک ایسے کام کے لیے بھیج رہا ہوں جس کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا: ”تم جو بھی ابھری قبر ہو، اسے برابر کئے بغیر اور جو بھی مجسمہ ہو ۱؎، اسے مسمار کئے بغیر نہ چھوڑنا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ قبر کو زمین سے بلند رکھنے کو مکروہ ( تحریمی ) قرار دیتے ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ قبر کے اونچی کئے جانے کو میں مکروہ ( تحریمی ) سوائے اتنی مقدار کے جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قبر ہے تاکہ وہ نہ روندی جائے اور نہ اس پر بیٹھا جائے۔
حدیث 1050 — جامع الترمذي 10:86
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا إِلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَبَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
ابومرثد غنوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو ۱؎ اور نہ انہیں سامنے کر کے نماز پڑھو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، عمرو بن حزم اور بشیر بن خصاصیہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1051 — جامع الترمذي 10:87
صحیحصحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ وَهَذَا الصَّحِيحُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَزَادَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ وَإِنَّمَا هُوَ بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ وَبُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ‏.‏
اس طریق سے بھی ابومرشد غنوی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ اس سند میں ابوادریس کا واسطہ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ابن مبارک کی روایت غلط ہے، اس میں ابن مبارک سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اس میں ابوادریس خولانی کا واسطہ بڑھا دیا ہے، صحیح یہ ہے کہ بسر بن عبداللہ نے بغیر واسطے کے براہ راست واثلہ سے روایت کی ہے، اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کی ہے اور اس میں ابوادریس کے واسطے کا ذکر نہیں ہے۔ اور بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے سنا ہے۔
حدیث 1052 — جامع الترمذي 10:88
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُجَصَّصَ الْقُبُورُ وَأَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهَا وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهَا وَأَنْ تُوطَأَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي تَطْيِينِ الْقُبُورِ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ لاَ بَأْسَ أَنْ يُطَيَّنَ الْقَبْرُ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قبریں پختہ کی جائیں ۱؎، ان پر لکھا جائے ۲؎ اور ان پر عمارت بنائی جائے ۳؎ اور انہیں روندا جائے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اور بھی طرق سے جابر سے مروی ہے، ۳- بعض اہل علم نے قبروں پر مٹی ڈالنے کی اجازت دی ہے، انہیں میں سے حسن بصری بھی ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں: قبروں پر مٹی ڈالنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث 1053 — جامع الترمذي 10:89
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِقُبُورِ الْمَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالأَثَرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَعَائِشَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو كُدَيْنَةَ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ وَأَبُو ظَبْيَانَ اسْمُهُ حُصَيْنُ بْنُ جُنْدُبٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی چند قبروں کے پاس سے گزرے، تو ان کی طرف رخ کر کے آپ نے فرمایا: «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر» ”سلامتی ہو تم پر اے قبر والو! اللہ ہمیں اور تمہیں بخشے تم ہمارے پیش روہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 1054 — جامع الترمذي 10:90
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَقَدْ أُذِنَ لِمُحَمَّدٍ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الآخِرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ بِزِيَارَةِ الْقُبُورِ بَأْسًا ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ اب محمد کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تو تم بھی ان کی زیارت کرو، یہ چیز آخرت کو یاد دلاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، ابن مسعود، انس، ابوہریرہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ قبروں کی زیارت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔