براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس «شانہ» ( کی ہڈی ) یا تختی لاؤ، پھر آپ نے لکھوایا ۱؎: «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”یعنی جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن ( مجاہدین کے ) برابر نہیں ہو سکتے ہیں نابینا صحابی“، عمرو ابن ام مکتوم رضی الله عنہ آپ کے پیچھے تھے، انہوں نے پوچھا: کیا میرے لیے اجازت ہے؟ چنانچہ ( آیت کا ) یہ ٹکڑا نازل ہوا: «غير أول الضرر» “، ( معذورین کے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث بروایت «سليمان التيمي عن أبي إسحق» غریب ہے، اس حدیث کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، جابر اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ماں باپ ( زندہ ) ہیں؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”ان کی خدمت کی کوشش میں لگے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
ابن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: «أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» کی تفسیر میں کہتے ہیں: عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی سہمی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اکیلا ) سریہ بنا کر بھیجا ۱؎۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ تنہائی کا وہ نقصان جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کوئی سوار رات میں تنہا نہ چلے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اکیلا سوار شیطان ہے، دو سوار بھی شیطان ہیں اور تین سوار قافلہ والے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو کی حدیث حسن ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، زید بن ثابت، عائشہ ابن عباس، اسماء بنت یزید بن سکن، کعب بن مالک اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں کہ میں زید بن ارقم رضی الله عنہ کے بغل میں تھا کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوات کیے؟ کہا: انیس ۱؎، میں نے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے؟ کہا: سترہ میں، میں نے پوچھا: کون سا غزوہ پہلے ہوا تھا؟ کہا: ذات العشیر یا ذات العُشیرہ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام بدر میں رات کے وقت ہمیں مناسب جگہوں پر متعین کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوایوب سے بھی روایت ہے، یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: محمد بن اسحاق کا سماع عکرمہ سے ثابت ہے، اور جب میں نے بخاری سے ملاقات کی تھی تو وہ محمد بن حمید الرازی کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے، پھر بعد میں ان کو ضعیف قرار دیا۔
ابن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( غزوہ احزاب میں ) کفار کے لشکروں پر بد دعا کرتے ہوئے سنا، آپ نے ان الفاظ میں بد دعا کی «اللهم منزل الكتاب سريع الحساب اهزم الأحزاب اللهم اهزمهم وزلزلهم» ”کتاب نازل کرنے اور جلد حساب کرنے والے اللہ! کفار کے لشکروں کو شکست سے دوچار کر، ان کو شکست دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے“۔ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود رضی الله عنہ سے بھی حدیث مروی ہے۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا پرچم سفید تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن آدم کی روایت سے جانتے ہیں اور یحییٰ شریک سے روایت کرتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن آدم شریک سے روایت کرتے ہیں، اور کہا: ہم سے کئی لوگوں نے «شريك عن عمار عن أبي الزبير عن جابر» کی سند سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور اس وقت آپ کے سر پر کالا عمامہ تھا، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: اور ( محفوظ ) حدیث یہی ہے، ۳- «الدهن» قبیلہ بجیلہ کی ایک شاخ ہے، عمار دہنی معاویہ دہنی کے بیٹے ہیں، ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔