مزیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ داخل ہوئے اور آپ کی تلوار سونا اور چاندی سے مزین تھی، راوی طالب کہتے ہیں: میں نے ہود بن عبداللہ سے چاندی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہود کے دادا کا نام مزیدہ عصری ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدیث 1691 — جامع الترمذي 23:22
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِضَّةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ فِضَّةٍ .
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسی طرح اس حدیث کو ہمام، قتادہ سے اور قتادہ، انس سے روایت کرتے ہیں، بعض لوگوں نے قتادہ کے واسطہ سے، سعید بن ابی الحسن سے بھی روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی گرہ چاندی کی تھی۔
حدیث 1692 — جامع الترمذي 23:23
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، قَالَ كَانَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم دِرْعَانِ يَوْمَ أُحُدٍ فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَأَقْعَدَ طَلْحَةَ تَحْتَهُ فَصَعِدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوْجَبَ طَلْحَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَالسَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ .
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر دو زرہیں تھیں ۱؎، آپ چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن نہیں چڑھ سکے، آپ نے طلحہ بن عبیداللہ کو اپنے نیچے بٹھایا، پھر آپ ان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہو گئے، زبیر کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”طلحہ نے ( اپنے عمل سے جنت ) واجب کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں صفوان بن امیہ اور سائب بن یزید رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا، آپ سے کہا گیا: ابن خطل ۱؎ کعبہ کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲ – ہم میں سے اکثر لوگوں کے نزدیک زہری سے مالک کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کی ہے۔
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر ( بھلائی ) بندھی ہوئی ہے، خیر سے مراد اجر اور غنیمت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری، جریر، ابوہریرہ، اسماء بنت یزید، مغیرہ بن شعبہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- امام احمد بن حنبل کہتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جہاد کا حکم ہر امام کے ساتھ قیامت تک باقی ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرخ رنگ کے گھوڑوں میں برکت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف شیبان کی روایت سے جانتے ہیں۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر گھوڑے وہ ہیں جو کالے رنگ کے ہوں، جن کی پیشانی اور اوپر کا ہونٹ سفید ہو، پھر ان کے بعد وہ گھوڑے ہیں جن کے چاروں پیر اور پیشانی سفید ہو، اگر گھوڑا کالے رنگ کا نہ ہو تو انہیں صفات کا سرخ سیاہی مائل عمدہ گھوڑا ہے“۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں میں سے «شکال» گھوڑا ناپسند تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے عبداللہ بن یزید خثعمی سے، بسند «أبي زرعة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ابوزرعہ عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تضمیر» کیے ہوئے گھوڑوں کی مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان چھ میل کا فاصلہ ہے، اور جو «تضمیر» کیے ہوئے نہیں تھے ان کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک گھڑ دوڑ کرائی، ان دونوں کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے، گھڑ دوڑ کے مقابلہ میں میں بھی شامل تھا، چنانچہ میرا گھوڑا مجھے لے کر ایک دیوار کود گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوری کی روایت سے یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔