قرآني·Qurani
اردو

الحج

156 احادیث · #809–964

حدیث 899 — جامع الترمذي 9:92
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْجِمَارِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي إِلَى الْجِمَارِ ‏.‏ وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا أَنَّهُ رَكِبَ فِي بَعْضِ الأَيَّامِ لِيُقْتَدَى بِهِ فِي فِعْلِهِ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر، قدامہ بن عبداللہ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ( رضی الله عنہم ) سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں، ۵- ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے، ۶- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے۔
حدیث 900 — جامع الترمذي 9:93
صحیحصحیححسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَمَى الْجِمَارَ مَشَى إِلَيْهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَرْكَبُ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَمْشِي فِي الأَيَّامِ الَّتِي بَعْدَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَكَأَنَّ مَنْ قَالَ هَذَا إِنَّمَا أَرَادَ اتِّبَاعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي فِعْلِهِ لأَنَّهُ إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَكِبَ يَوْمَ النَّحْرِ حَيْثُ ذَهَبَ يَرْمِي الْجِمَارَ وَلاَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ إِلاَّ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمی جمار کرتے، تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ ( العمری ) سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہو سکتا ہے، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی اتباع ہے۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے۔
حدیث 901 — جامع الترمذي 9:94
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَجَعَلَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الأَيْمَنِ ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ مِنْ هَا هُنَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ‏.‏ حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَرْمِيَ الرَّجُلُ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ أَنْ يَرْمِيَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي رَمَى مِنْ حَيْثُ قَدَرَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي بَطْنِ الْوَادِي ‏.‏
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے بیچ میں کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر اپنے داہنے ابرو کے مقابل رمی شروع کی۔ پھر سات کنکریوں سے رمی کی۔ ہر کنکری پر وہ ”اللہ اکبر“ کہتے تھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس ذات نے بھی یہیں سے رمی کی جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں فضل بن عباس، ابن عباس، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کے نزدیک پسندیدہ یہی ہے کہ آدمی بطن وادی میں کھڑے ہو کر سات کنکریوں سے رمی کرے اور ہر کنکری پر ”اللہ اکبر“ کہے، ۴- اور بعض اہل علم نے اجازت دی ہے کہ اگر بطن وادی سے رمی کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی جگہ سے کرے جہاں سے وہ اس پر قادر ہو گو وہ بطن وادی میں نہ ہو۔
حدیث 902 — جامع الترمذي 9:95
ضعیفضعیفحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا جُعِلَ رَمْىُ الْجِمَارِ وَالسَّعْىُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمرات کی رمی اور صفا و مروہ کی سعی اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 903 — جامع الترمذي 9:96
صحیحصحیححسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلاَ طَرْدٌ وَلاَ إِلَيْكَ إِلَيْكَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَهُوَ حَدِيثُ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏
قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک اونٹنی پر جمرات کی رمی کر رہے تھے، نہ لوگوں کو دھکیلنے اور ہانکنے کی آواز تھی اور نہ ہٹو ہٹو کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قدامہ بن عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اسی طریق سے جانی جاتی ہے، یہ ایمن بن نابل کی حدیث ہے۔ اور ایمن اہل حدیث ( محدثین ) کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں عبداللہ بن حنظلہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدیث 904 — جامع الترمذي 9:97
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَحَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ الْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورَ عَنْ عَشَرَةٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاقَ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گائے اور اونٹ کو سات سات آدمیوں کی جانب سے نحر ( ذبح ) کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ اونٹ سات لوگوں کی طرف سے اور گائے سات لوگوں کی طرف سے ہو گی۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی اور احمد کا قول ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ گائے سات لوگوں کی طرف سے اور اونٹ دس لوگوں کی طرف سے کافی ہو گا ۱؎۔ یہ اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ ابن عباس کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی طریق سے جانتے ہیں ( ملاحظہ ہو آنے والی حدیث:)
حدیث 905 — جامع الترمذي 9:98
صحیحصحیححسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ ‏.‏ فَحَضَرَ الأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً وَفِي الْجَزُورِ عَشَرَةً ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ عید الاضحی کا دن آ گیا، چنانچہ گائے میں ہم سات سات لوگ اور اونٹ میں دس دس لوگ شریک ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حسین بن واقد کی حدیث ( روایت ) ہے۔
حدیث 906 — جامع الترمذي 9:99
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَلَّدَ نَعْلَيْنِ وَأَشْعَرَ الْهَدْىَ فِي الشِّقِّ الأَيْمَنِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو حَسَّانَ الأَعْرَجُ اسْمُهُ مُسْلِمٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ الإِشْعَارَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ عِيسَى يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ حِينَ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ لاَ تَنْظُرُوا إِلَى قَوْلِ أَهْلِ الرَّأْىِ فِي هَذَا فَإِنَّ الإِشْعَارَ سُنَّةٌ وَقَوْلَهُمْ بِدْعَةٌ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ أَبَا السَّائِبِ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ وَكِيعٍ فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ مِمَّنْ يَنْظُرُ فِي الرَّأْىِ أَشْعَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَيَقُولُ أَبُو حَنِيفَةَ هُوَ مُثْلَةٌ ‏.‏ قَالَ الرَّجُلُ فَإِنَّهُ قَدْ رُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ الإِشْعَارُ مُثْلَةٌ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ وَكِيعًا غَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ أَقُولُ لَكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَقُولُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ مَا أَحَقَّكَ بِأَنْ تُحْبَسَ ثُمَّ لاَ تَخْرُجَ حَتَّى تَنْزِعَ عَنْ قَوْلِكَ هَذَا ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں ( ہدی کے جانور کو ) دو جوتیوں کے ہار پہنائے اور ان کی کوہان کے دائیں طرف اشعار ۱؎ کیا اور اس سے خون صاف کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام رضی الله عنہم وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اشعار کے قائل ہیں۔ یہی ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۳- یوسف بن عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے وکیع کو کہتے سنا جس وقت انہوں نے یہ حدیث روایت کی کہ اس سلسلے میں اہل رائے کے قول کو نہ دیکھو، کیونکہ اشعار سنت ہے اور ان کا قول بدعت ہے، ۴- میں نے ابوسائب کو کہتے سنا کہ ہم لوگ وکیع کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے جو ان لوگوں میں سے تھا جو رائے میں غور و فکر کرتے ہیں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کیا ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ مثلہ ہے تو اس آدمی نے کہا: ابراہیم نخعی سے مروی ہے انہوں نے بھی کہا ہے کہ اشعار مثلہ ہے، ابوسائب کہتے ہیں: تو میں نے وکیع کو دیکھا کہ ( اس کی اس بات سے ) وہ سخت ناراض ہوئے اور کہا: میں تم سے کہتا ہوں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے“ اور تم کہتے ہو: ابراہیم نے کہا: تم تو اس لائق ہو کہ تمہیں قید کر دیا جائے پھر اس وقت تک قید سے تمہیں نہ نکالا جائے جب تک کہ تم اپنے اس قول سے باز نہ آ جاؤ ۲؎۔
حدیث 907 — جامع الترمذي 9:100
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں: اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ۱؎ سے خریدا، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۲؎۔
حدیث 908 — جامع الترمذي 9:101
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ الْهَدْىَ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَجَّ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ حَتَّى يُحْرِمَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا قَلَّدَ الرَّجُلُ هَدْيَهُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ مَا وَجَبَ عَلَى الْمُحْرِمِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے قلادے بٹے، پھر آپ نہ محرم ہوئے اور نہ ہی آپ نے کوئی کپڑا پہننا چھوڑا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنا دے اور وہ حج کا ارادہ رکھتا ہو تو اس پر کپڑا پہننا یا خوشبو لگانا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ وہ احرام نہ باندھ لے، ۳- اور بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب آدمی اپنے ہدی ( کے جانور ) کو قلادہ پہنا دے تو اس پر وہ سب واجب ہو جاتا ہے جو ایک محرم پر واجب ہوتا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔