ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ”اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے“، آپ نے فرمایا: ”کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ ( یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح میں یہ کلمات کہے گا: «اللهم أصبحنا نشهدك ونشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك بأنك الله لا إله إلا أنت الله وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» ”اے اللہ! ہم نے صبح کی اور ہم تجھے گواہ بناتے ہیں اور تیرا عرش اٹھائے رہنے والوں، تیرے فرشتوں کو تیری ساری مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو اکیلا اللہ ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں“، تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ ہوں گے انہیں اللہ بخش دے گا اور اگر وہ یہ دعا شام کے وقت پڑھے گا تو اس رات اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوں گے اللہ انہیں بخش دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کم ہی ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی مجلس سے اپنے صحابہ کے لیے یہ دعا کیے بغیر اٹھے ہوں: «اللهم اقسم لنا من خشيتك ما يحول بيننا وبين معاصيك ومن طاعتك ما تبلغنا به جنتك ومن اليقين ما تهون به علينا مصيبات الدنيا ومتعنا بأسماعنا وأبصارنا وقوتنا ما أحييتنا واجعله الوارث منا واجعل ثأرنا على من ظلمنا وانصرنا على من عادانا ولا تجعل مصيبتنا في ديننا ولا تجعل الدنيا أكبر همنا ولا مبلغ علمنا ولا تسلط علينا من لا يرحمنا» ”اے اللہ! ہمارے درمیان تو اپنا اتنا خوف بانٹ دے جو ہمارے اور ہمارے گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے، اور ہمارے درمیان اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اتنا جذبہ پھیلا دے جو ہمیں تیری جنت تک پہنچا دے، اور ہمیں اتنا یقین دیدے جس کے سہارے دنیا کی مصیبتیں ہیچ اور آسان ہو جائیں، اور جب تک تو زندہ رکھ ہمیں اپنے کانوں اپنی آنکھوں اور اپنی قوتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دیتا رہ، اور ان سب کو ( ہماری موت تک ) باقی رکھ، اور ہمارا قصاص اور ہمارا بدلہ ان سے لے جو ہم پر ظلم کرے، اور جو ہم سے دشمنی کرے اس کے مقابل میں ہماری مدد فرما، اور دنیا کو ہمارا برا مقصد نہ بنا دے، اور نہ ہمارے علم کی انتہا بنا ( کہ ہمارا سارا سیکھنا سکھانا صرف دنیا کی خاطر ہو ) اور ہم پر کسی ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، بعض محدثین نے یہ حدیث خالد بن ابوعمران سے اور خالد نے نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے۔
مسلم بن ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والكسل وعذاب القبر» ”اے اللہ میں غم و فکر اور سستی و کاہلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، پڑھتے ہوئے سنا تو کہا: اے بیٹے تو نے یہ دعا کس سے سنی؟ میں نے کہا: میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنی ہے، انہوں نے کہا: انہیں پابندی سے پڑھتے رہا کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھا دوں کہ ان کلمات کو جب تم کہو گے تو تمہارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا، اگرچہ تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے گناہ پہلے ہی معاف کئے جا چکے ہیں“، آپ نے فرمایا: ”کہو: «لا إله إلا الله العلي العظيم لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم» ”اللہ جو بلند و بالا ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، حلیم و کریم ( بردبار مہربان ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے“۔
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذوالنون ( یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے دوران کی تھی وہ یہ تھی: «لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين» ”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، میں ہی ظالم ( خطاکار ) ہوں“، کیونکہ یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے کہا: محمد بن یوسف کبھی ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کرتے ہیں اور اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے، ۲- دوسرے راویوں نے یہ حدیث یونس بن ابواسحاق سے، اور یونس نے ابراہیم بن محمد بن سعد کے واسطہ سے سعد سے روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- بعض نے یونس بن ابواسحاق سے روایت کی ہے، اور ان لوگوں نے ابن یوسف کی روایت کی طرح ابراہیم بن محمد بن سعد سے روایت کرتے ہوئے «عن أبيه عن سعد» کہا ہے اور یونس بن ابواسحاق کی عادت تھی کہ کبھی تو وہ اس حدیث میں «عن أبيه» کہہ کر روایت کرتے اور کبھی «عن أبيه» کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
حدیث 3506 — جامع الترمذي 48:137
صحیحصحیححسن Sahihحسن
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً غَيْرَ وَاحِدٍ مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " . قَالَ يُوسُفُ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ۱؎ نام ہیں، سو میں ایک کم، جو انہیں یاد رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۲؎۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جو انہیں شمار کرے ( گنے ) گا وہ جنت میں جائے گا، اور اللہ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف و اعلی، «الرحمن» ”بہت رحم کرنے والا“، «الرحيم» ”مہربان“، «الملك» ”بادشاہ“، «القدوس» ”نہایت پاک“، «السلام» ”سلامتی دینے والا“، «المؤمن» ”یقین والا“، «المهيمن» ”نگہبان“، «العزيز» ”غالب“، «الجبار» ”تسلط والا“، «المتكبر» ”بڑائی والا“، «الخالق» ”پیدا کرنے والا“، «البارئ» ”پیدا کرنے والا“، «المصور» ”صورت بنانے والا“، «الغفار» ”بہت بخشنے والا ‘، «القهار» ”قہر والا“، «الوهاب» ”بہت دینے والا“، «الرزاق» ”روزی دینے والا“، «الفتاح» ”فیصلہ چکانے والا“، «العليم» ”جاننے والا“، «القابض» ”روکنے والا“، «الباسط» ”چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا“، «الخافض» ”پست کرنے والا“، «الرافع» ”بلند کرنے والا“، «المعز» ”عزت دینے والا“، «المذل» ”ذلت دینے والا“، «السميع» ”سننے والا“، «البصير» ”دیکھنے والا“، «الحكم» ”فیصلہ کرنے والا“، «العدل» ”انصاف والا“، «اللطيف» ”بندوں پر شفقت کرنے والا“، «الخبير» ”خبر رکھنے والا“، «الحليم» ”بردبار“، «العظيم» ”بزرگی والا“، «الغفور» ”بہت بخشنے والا“، «الشكور» ”قدر کرنے والا“، «العلي» ”اونچا“، «الكبير» ”بڑا“، «الحفيظ» ”نگہبان“، «المقيت» ”طاقت و قوت والا“، «الحسيب» ”حساب لینے والا“، «الجليل» ”بزرگ“، «الكريم» ”کرم والا“، «الرقيب» ”مطلع رہنے والا“، «المجيب» ”قبول کرنے والا“، «الواسع» ”کشادگی اور وسعت والا“، «الحكيم» ”حکمت والا“، «الودود» ”بہت چاہنے والا“، «المجيد» ”بزرگی والا“، «الباعث» ”زندہ کر کے اٹھانے والا“، «الشهيد» ”نگراں، حاضر“، «الحق» ”سچا“، «الوكيل» ”کار ساز“، «القوي» ”طاقتور“، «المتين» ”مضبوط“، «الولي» ”مددگار و محافظ“، «الحميد»، «المحصي»، «المبدئ» ”پہلے پہل پیدا کرنے والا“، «المعيد» ”دوبارہ پیدا کرنے والا“، «المحيي» ”زندہ کرنے والا“، «المميت» ”مارنے والا“، «الحي» ”زندہ“، «القيوم» ”قائم رہنے و قائم رکھنے والا“، «الواجد» ”پانے والا“، «الماجد» ”بزرگی والا“، «الواحد» ”اکیلا“، «الصمد» ”بے نیاز“، «القادر» ”قدرت والا“، «المقتدر» ”طاقتور پکڑنے والا“، «المقدم» ”پہلا“، «المؤخر» ”پچھلا“، «الأول» ”پہلا“، «الآخر» ”پچھلا“، «الظاهر» ”ظاہر“، «الباطن» ”پوشیدہ، مخفی“، «الوالي» ”مالک مختار، حکومت کرنے والا“، «المتعالي» ”برتر“، «البر» ”بھلائی والا“، «التواب» ”توبہ قبول کرنے والا“، «المنتقم» ”انتقام لینے والا“، «العفو» ”درگذر کرنے والا“، «الرءوف» ”شفقت والا، مہربان“، «مالك الملك» ”تمام جہاں کا مالک“، «ذو الجلال والإكرام» ”عزت و جلال والا“، «المقسط» ”انصاف کرنے والا“، «الجامع» ”جمع کرنے والا“، «الغني» ”تونگر و بے نیاز“، «المغني» ”بے نیاز“، «المانع» ”روکنے والا“، «الضار» ”نقصان پہنچانے والا“، «النافع» ”نفع پہنچانے والا“، «النور» ”روشن، ظاہر“، «الهادي» ”ہدایت بخشنے والا“، «البديع» ”از سر نو پیدا کرنے والا“، «الباقي» ”قائم رہنے والا“، «الوارث» ”وارث“، «الرشيد» ”خیر و بھلائی والا“، «الصبور» ”بردبار“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم سے کئی راویوں نے یہ حدیث صفوان بن ابوصالح کے واسطے سے بیان کی ہے، اور یہ حدیث ہم صرف صفوان بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں اور صفوان بن صالح محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- یہ حدیث کئی اور سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، اور ہم اکثر و بیشتر روایات کو جن میں اسماء الٰہی کا ذکر ہے، اس حدیث کے سوا کسی حدیث کو سند کے اعتبار سے صحیح نہیں پاتے، ۴- آدم ابن ابی ایاس نے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دو سری سند سے ابوہریرہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اس میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر کیا ہے، لیکن اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے ( ۹۹ ) نام ہیں جس نے انہیں شمار کیا ( یاد رکھا ) وہ جنت میں جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں اسماء ( الٰہی ) کا ذکر نہیں ہے، ۳- اسے ابوالیمان نے شعیب بن ابی حمزہ کے واسطہ سے ابوالزناد سے روایت کیا ہے اور اس میں اسمائے حسنیٰ کا ذکر نہیں کیا۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرو تو کچھ چر چگ لیا کرو“، میں پوچھا: اللہ کے رسول! «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” «رياض الجنة» مساجد ہیں“، میں نے کہا اور «الرتع» کیا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہنا «الرتع» ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔