قرآني·Qurani
اردو

الزكاة

65 احادیث · #617–681

حدیث 627 — جامع الترمذي 7:11
حسن Sahihصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْهُ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ‏.‏ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا وَخَمْسَةُ أَوْسُقٍ ثَلاَثُمِائَةِ صَاعٍ وَصَاعُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ وَصَاعُ أَهْلِ الْكُوفَةِ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ ‏.‏ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا وَخَمْسُ أَوَاقٍ مِائَتَا دِرْهَمٍ ‏.‏ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ يَعْنِي لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ وَفِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَاةٌ ‏.‏
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے جیسے عبدالعزیز بن محمد کی حدیث ہے جسے انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے روایت کی ہے ( جو اوپر گزر چکی ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان سے یہ روایت اور بھی کئی طرق سے مروی ہے، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ اور پانچ وسق میں تین سو صاع ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ساڑھے پانچ رطل کا تھا اور اہل کوفہ کا صاع آٹھ رطل کا، پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ اور پانچ اوقیہ کے دو سو درہم ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔ جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو ان میں ایک سال کی اونٹنی کی زکاۃ ہے اور پچیس اونٹ سے کم میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری زکاۃ ہے۔
حدیث 628 — جامع الترمذي 7:12
صحیحضعیفحسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلاَ فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ صَدَقَةٌ وَلاَ فِي الرَّقِيقِ إِذَا كَانُوا لِلْخِدْمَةِ صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَكُونُوا لِلتِّجَارَةِ فَإِذَا كَانُوا لِلتِّجَارَةِ فَفِي أَثْمَانِهِمُ الزَّكَاةُ إِذَا حَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر نہ اس کے گھوڑوں میں زکاۃ ہے اور نہ ہی اس کے غلاموں میں زکاۃ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ پالتو گھوڑوں میں جنہیں دانہ چارہ باندھ کر کھلاتے ہیں زکاۃ نہیں اور نہ ہی غلاموں میں ہے، جب کہ وہ خدمت کے لیے ہوں الاّ یہ کہ وہ تجارت کے لیے ہوں۔ اور جب وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان کی قیمت میں زکاۃ ہو گی جب ان پر سال گزر جائے۔
حدیث 629 — جامع الترمذي 7:13
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي الْعَسَلِ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَزُقٍّ زِقٌّ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَلاَ يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ كَبِيرُ شَيْءٍ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ فِي الْعَسَلِ شَيْءٌ ‏.‏ وَصَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِحَافِظٍ وَقَدْ خُولِفَ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ نَافِعٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہد میں ہر دس مشک پر ایک مشک زکاۃ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ، ابوسیارہ متعی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند میں کلام ہے ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کچھ زیادہ صحیح چیزیں مروی نہیں اور اسی پر اکثر اہل علم کا عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ شہد میں کوئی زکاۃ نہیں ۲؎، ۴- صدقہ بن عبداللہ حافظ نہیں ہیں۔ نافع سے اس حدیث کو روایت کرنے میں صدقہ بن عبداللہ کی مخالفت کی گئی ہے۔
حدیث 630 — جامع الترمذي 7:14
صحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ صَدَقَةِ الْعَسَلِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا عِنْدَنَا عَسَلٌ نَتَصَدَّقُ مِنْهُ وَلَكِنْ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِي الْعَسَلِ صَدَقَةٌ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ عَدْلٌ مَرْضِيٌّ ‏.‏ فَكَتَبَ إِلَى النَّاسِ أَنْ تُوضَعَ ‏.‏ يَعْنِي عَنْهُمْ ‏.‏
نافع کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبدالعزیز نے شہد کی زکاۃ کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ ہمارے پاس شہد نہیں کہ ہم اس کی زکاۃ دیں، لیکن ہمیں مغیرہ بن حکیم نے خبر دی ہے کہ شہد میں زکاۃ نہیں ہے۔ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: یہ مبنی برعدل اور پسندیدہ بات ہے۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں کو لکھا کہ ان سے شہد کی زکاۃ معاف کر دی جائے۔
حدیث 631 — جامع الترمذي 7:15
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ صَالِحٍ الطَّلْحِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنِ اسْتَفَادَ مَالاً فَلاَ زَكَاةَ عَلَيْهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک کہ اس پر اس کے مالک کے یہاں ایک سال نہ گزر جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں سراء بنت نبھان غنویہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدیث 632 — جامع الترمذي 7:16
صحیح Isnaad Mauqufصحیح Isnaad MauqufMauqufIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ مَنِ اسْتَفَادَ مَالاً فَلاَ زَكَاةَ فِيهِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ عِنْدَ رَبِّهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى أَيُّوبُ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا ‏.‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ وَغَيْرُهُمَا مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ زَكَاةَ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَ عِنْدَهُ مَالٌ تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ فَفِيهِ الزَّكَاةُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ سِوَى الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ الْمُسْتَفَادِ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنِ اسْتَفَادَ مَالاً قَبْلَ أَنْ يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ فَإِنَّهُ يُزَكِّي الْمَالَ الْمُسْتَفَادَ مَعَ مَالِهِ الَّذِي وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں جسے کوئی مال حاصل ہو تو اس پر زکاۃ نہیں جب تک کہ اس کے ہاں اس مال پر ایک سال نہ گزر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ( موقوف ) حدیث عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کی ( مرفوع ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- ایوب، عبیداللہ بن عمر اور دیگر کئی لوگوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر سے موقوفاً ( ہی ) روایت کی ہے۔ ۳- عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں، احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور ان کے علاوہ دیگر محدثین نے ان کی تضعیف کی ہے وہ کثرت سے غلطیاں کرتے ہیں، ۴- صحابہ کرام میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ حاصل شدہ مال میں زکاۃ نہیں ہے، جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کے پاس پہلے سے اتنا مال ہو جس میں زکاۃ واجب ہو تو حاصل شدہ مال میں بھی زکاۃ واجب ہو گی اور اگر اس کے پاس حاصل شدہ مال کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو جس میں زکاۃ واجب ہوئی ہو تو کمائے ہوئے مال میں بھی کوئی زکاۃ واجب نہیں ہو گی جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، اور اگر اسے ( پہلے سے نصاب کو پہنچے ہوئے ) مال پر سال گزرنے سے پہلے کوئی کمایا ہوا مال ملا تو وہ اس مال کے ساتھ جس میں زکاۃ واجب ہو گئی ہے، مال مستفاد کی بھی زکاۃ نکالے گا سفیان ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔
حدیث 633 — جامع الترمذي 7:17
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے“ ۲؎۔
حدیث 634 — جامع الترمذي 7:18
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَجَدِّ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ النَّصْرَانِيَّ إِذَا أَسْلَمَ وُضِعَتْ عَنْهُ جِزْيَةُ رَقَبَتِهِ ‏.‏ وَقَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ ‏"‏ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ جِزْيَةَ الرَّقَبَةِ وَفِي الْحَدِيثِ مَا يُفَسِّرُ هَذَا حَيْثُ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ ‏"‏ ‏.‏
اس سند سے بھی قابوس سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث قابوس بن ابی ظبیان سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۲- اس باب میں سعید بن زید اور حرب بن عبیداللہ ثقفی کے دادا سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ نصرانی جب اسلام قبول کر لے تو اس کی اپنی گردن کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ليس على المسلمين عشور» ”مسلمانوں پر عشر نہیں ہے“ کا مطلب بھی گردن کا جزیہ ہے، اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت کر دی گئی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا: ”عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے، مسلمانوں پر کوئی عشر نہیں“ ۱؎۔
حدیث 635 — جامع الترمذي 7:19
صحیح Lighairihiصحیحصحیح
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، عَنِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: ”اے گروہ عورتوں کی جماعت! زکاۃ دو ۱؎ گو اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ دو۔ کیونکہ قیامت کے دن جہنم والوں میں تم ہی سب سے زیادہ ہو گی“۔
حدیث 636 — جامع الترمذي 7:20
صحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ زَيْنَبَ، - امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَهِمَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ ‏.‏ وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ رَأَى فِي الْحُلِيِّ زَكَاةً ‏.‏ وَفِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ مَقَالٌ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةَ مَا كَانَ مِنْهُ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمُ ابْنُ عُمَرَ وَعَائِشَةُ وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَيْسَ فِي الْحُلِيِّ زَكَاةٌ ‏.‏ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ابومعاویہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ انہیں اپنی حدیث میں وہم ہوا ہے ۱؎ انہوں نے کہا ہے ”عمرو بن الحارث سے روایت ہے وہ عبداللہ بن مسعود کی بیوی زینب کے بھتیجے سے روایت کر رہے ہیں“ اور صحیح یوں ہے ”زینب کے بھتیجے عمرو بن حارث سے روایت ہے“، ۲- نیز عمرو بن شعیب سے بطریق: «عن أبيه، عن جده، عبدالله بن عمرو بن العاص عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت ہے کہ آپ نے زیورات میں زکاۃ واجب قرار دی ہے ۲؎ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ۳- اہل علم کا اس سلسلے میں اختلاف ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم سونے چاندی کے زیورات میں زکاۃ کے قائل ہیں۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک بھی یہی کہتے ہیں۔ اور بعض صحابہ کرام جن میں ابن عمر، عائشہ، جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم شامل ہیں، کہتے ہیں کہ زیورات میں زکاۃ نہیں ہے۔ بعض تابعین فقہاء سے بھی اسی طرح مروی ہے، اور یہی مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔