ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ قصد کرتا ہے کہ وہ اپنی نماز میں اونٹ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث غریب ہے ہم اسے ابوالزناد کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن سعید مقبری سے بھی روایت کی گئی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ عبداللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، وائل بن حجر اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ کرے، اور اگر صرف پیشانی پر سجدہ کرے ناک پر نہ کرے تو اہل علم میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسے کافی ہو گا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی نہیں ہو گا جب تک کہ وہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ نہ کرے ۱؎۔
ابواسحاق سبیعی سے روایت ہے کہ میں نے براء بن عازب رضی الله عنہما سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنا چہرہ کہاں رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر اور ابوحمید رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی کو بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کے دونوں کانوں کے قریب ہوں ۱؎۔
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات جوڑ بھی سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ ۱؎ اس کی دونوں ہتھیلیاں، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عباس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، جابر اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 274 — جامع الترمذي 2:126
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَقْرَمِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ فَمَرَّتْ رَكَبَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَائِمٌ يُصَلِّي . قَالَ فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَتَىْ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ أَىْ بَيَاضِهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ بُحَيْنَةَ وَجَابِرٍ وَأَحْمَرَ بْنِ جَزْءٍ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي أُسَيْدٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ وَعَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَحْمَرُ بْنُ جَزْءٍ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَهُ حَدِيثٌ وَاحِدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ وَلاَ نَعْرِفُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيُّ إِنَّمَا لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَرْقَمَ الزُّهْرِيُّ صَاحِبُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَهُوَ كَاتِبُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ .
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مقام نمرہ کے «قاع» ”مسطح زمین“ میں اپنے والد کے ساتھ تھا، تو ( وہاں سے ) ایک قافلہ گزرا، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا جب آپ سجدہ کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن اقرم رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، اسے ہم صرف داود بن قیس کی سند سے جانتے ہیں۔ عبداللہ بن اقرم خزاعی کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو ہم نہیں جانتے، ۲- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ اور عبداللہ بن ارقم زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور وہ ابوبکر صدیق کے منشی تھے، ۳- اس باب میں ابن عباس، ابن بحینہ، جابر، احمر بن جزئ، میمونہ، ابوحمید، ابومسعود، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، براء بن عازب، عدی بن عمیرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- احمر بن جزء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک آدمی ہیں اور ان کی صرف ایک حدیث ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ۱؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، انس، براء، ابوحمید اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو، تم میں سے کوئی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔