قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

303 احادیث · #149–451

حدیث 339 — جامع الترمذي 2:191
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ مُشْتَمِلاً فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَأَنَسٍ وَعَمْرِو بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَأَبِي سَعِيدٍ وَكَيْسَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَطَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ وَصَامِتٍ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ قَالُوا لاَ بَأْسَ بِالصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ‏.‏ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبَيْنِ ‏.‏
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن ابی سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، جابر، سلمہ بن الاکوع، انس، عمرو بن ابی اسید، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، کیسان، ابن عباس، عائشہ، ام ہانی، عمار بن یاسر، طلق بن علی، اور عبادہ بن صامت انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین وغیرہم سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ آدمی دو کپڑوں میں نماز پڑھے۔
حدیث 340 — جامع الترمذي 2:192
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَىْ‏:‏ ‏(‏قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‏)‏ فَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَكَانَ يُحِبُّ ذَلِكَ فَصَلَّى رَجُلٌ مَعَهُ الْعَصْرَ ثُمَّ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلاَةِ الْعَصْرِ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ‏.‏ قَالَ فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعُمَارَةَ بْنِ أَوْسٍ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏.‏
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو سولہ یا سترہ ماہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف رخ کرنا پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها فول وجهك شطر المسجد الحرام‏» ”ہم آپ کے چہرے کو باربار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں، اب آپ اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجئے“ نازل فرمائی، تو آپ نے اپنا چہرہ کعبہ کی طرف پھیر لیا اور آپ یہی چاہتے بھی تھے، ایک شخص نے آپ کے ساتھ عصر پڑھی، پھر وہ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا اور وہ لوگ عصر میں بیت المقدس کی طرف چہرہ کئے رکوع کی حالت میں تھے، اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نماز پڑھی ہے کہ آپ اپنا رخ کعبہ کی طرف کئے ہوئے تھے، تو وہ لوگ بھی رکوع کی حالت ہی میں ( خانہ کعبہ کی طرف ) پھر گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، عمارہ بن اوس، عمرو بن عوف مزنی اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 341 — جامع الترمذي 2:193
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانُوا رُكُوعًا فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں وہ لوگ نماز فجر میں رکوع میں تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 342 — جامع الترمذي 2:194
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے“ ۱؎۔
حدیث 343 — جامع الترمذي 2:195
صحیح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ، مِثْلَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ، مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَبِي مَعْشَرٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَاسْمُهُ نَجِيحٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ لاَ أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا وَقَدْ رَوَى عَنْهُ النَّاسُ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيِّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَقْوَى مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَعْشَرٍ وَأَصَحُّ ‏.‏
یحییٰ بن موسیٰ کا بیان ہے کہ ہم سے محمد بن ابی معشر نے بھی اسی کے مثل بیان کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- بعض اہل علم نے ابومعشر کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔ ان کا نام نجیح ہے، وہ بنی ہاشم کے مولیٰ ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں ان سے کوئی روایت نہیں کرتا حالانکہ لوگوں نے ان سے روایت کی ہے نیز بخاری کہتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر مخرمی کی حدیث جسے انہوں نے بسند «عثمان بن محمد اخنسی عن سعید المقبری عن أبی ہریرہ» روایت کی ہے، ابومعشر کی حدیث سے زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہے ( یہ حدیث آگے آ رہی ہے جو اسی معنی کی ہے ) ۔
حدیث 344 — جامع الترمذي 2:196
حسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَخْنَسِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَإِنَّمَا قِيلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ لأَنَّهُ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ‏"‏ ‏.‏ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا جَعَلْتَ الْمَغْرِبَ عَنْ يَمِينِكَ وَالْمَشْرِقَ عَنْ يَسَارِكَ فَمَا بَيْنَهُمَا قِبْلَةٌ إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ‏"‏ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا لأَهْلِ الْمَشْرِقِ ‏.‏ وَاخْتَارَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ التَّيَاسُرَ لأَهْلِ مَرْوٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- کئی صحابہ سے مروی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے۔ ان میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، اور ابن عباس رضی الله عنہم بھی شامل ہیں، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: جب آپ مغرب کو دائیں طرف اور مشرق کو بائیں طرف رکھ کر قبلہ رخ کھڑے ہوں گے تو ان دونوں سمتوں کے درمیان جو ہو گا وہ قبلہ ہو گا، ابن مبارک کہتے ہیں: مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے سب قبلہ ہے، یہ اہل مشرق ۱؎ کے لیے ہے۔ اور عبداللہ بن مبارک نے اہل مرو ۲؎ کے لیے بائیں طرف جھکنے کو پسند کیا ہے۔
حدیث 345 — جامع الترمذي 2:197
حسنحسنضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ أَيْنَ الْقِبْلَةُ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَزَلَ‏:‏ ‏(‏فَأَيْنَمَا تُولُّوا فَثَمَّ وَجْهُ الله‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ السَّمَّانِ ‏.‏ وَأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَدْ ذَهَبَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا ‏.‏ قَالُوا إِذَا صَلَّى فِي الْغَيْمِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ اسْتَبَانَ لَهُ بَعْدَ مَا صَلَّى أَنَّهُ صَلَّى لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَإِنَّ صَلاَتَهُ جَائِزَةٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک تاریک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ تو ہم نہیں جان سکے کہ قبلہ کس طرف ہے، ہم میں سے ہر شخص نے اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لی جس طرف پہلے سے اس کا رخ تھا۔ جب ہم نے صبح کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا چنانچہ اس وقت آیت کریمہ «‏فأينما تولوا فثم وجه الله‏» ”تم جس طرف رخ کر لو اللہ کا منہ اسی طرف ہے“ نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ ہم اسے صرف اشعث بن سمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اشعث بن سعید ابوالربیع سمان حدیث کے معاملے میں ضعیف گردانے جاتے ہیں، ۲- اکثر اہل علم اسی کی طرف گئے ہیں کہ جب کوئی بدلی میں غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھ لے پھر نماز پڑھ لینے کے بعد پتہ چلے اس نے غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز درست ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
حدیث 346 — جامع الترمذي 2:198
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ فِي الْمَزْبَلَةِ وَالْمَجْزَرَةِ وَالْمَقْبُرَةِ وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ وَفِي الْحَمَّامِ وَفِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں، مذبح میں، قبرستان میں، عام راستوں پر، حمام ( غسل خانہ ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔
حدیث 347 — جامع الترمذي 2:199
ضعیفضعیف
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ ‏.‏ أَبُو مَرْثَدٍ اسْمُهُ كَنَّازُ بْنُ حُصَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ ‏.‏ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَزَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْكُوفِيُّ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏ وَحَدِيثُ دَاوُدَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ‏.‏
اس سند سے بھی اس مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے، ۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے، ۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق: «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں
حدیث 348 — جامع الترمذي 2:200
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلاَ تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو ۱؎ اور اونٹ باندھنے کی جگہ میں نہ پڑھو“۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔