قرآني·Qurani
اردو

الصلاة

303 احادیث · #149–451

حدیث 399 — جامع الترمذي 2:252
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ، وَهُوَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ أَقُصِرَتِ الصَّلاَةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَابْنِ عُمَرَ وَذِي الْيَدَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِذَا تَكَلَّمَ فِي الصَّلاَةِ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلاً أَوْ مَا كَانَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلاَةَ وَاعْتَلُّوا بِأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْكَلاَمِ فِي الصَّلاَةِ ‏.‏ قَالَ وَأَمَّا الشَّافِعِيُّ فَرَأَى هَذَا حَدِيثًا صَحِيحًا فَقَالَ بِهِ وَقَالَ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ نَاسِيًا فَإِنَّهُ لاَ يَقْضِي وَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَفَرَّقُوا هَؤُلاَءِ بَيْنَ الْعَمْدِ وَالنِّسْيَانِ فِي أَكْلِ الصَّائِمِ بِحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ تَكَلَّمَ الإِمَامُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلاَتِهِ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ قَدْ أَكْمَلَهَا ثُمَّ عَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يُكْمِلْهَا يُتِمُّ صَلاَتَهُ وَمَنْ تَكَلَّمَ خَلْفَ الإِمَامِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ عَلَيْهِ بَقِيَّةً مِنَ الصَّلاَةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَسْتَقْبِلَهَا ‏.‏ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ الْفَرَائِضَ كَانَتْ تُزَادُ وَتُنْقَصُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِنَّمَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ وَهُوَ عَلَى يَقِينٍ مِنْ صَلاَتِهِ أَنَّهَا تَمَّتْ وَلَيْسَ هَكَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ لأَحَدٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ عَلَى مَعْنَى مَا تَكَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ لأَنَّ الْفَرَائِضَ الْيَوْمَ لاَ يُزَادُ فِيهَا وَلاَ يُنْقَصُ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ نَحْوًا مِنْ هَذَا الْكَلاَمِ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ نَحْوَ قَوْلِ أَحْمَدَ فِي الْبَابِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ظہر یا عصر کی ) دو رکعت پڑھ کر ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹے تو ذوالیدین نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہاں ( آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آخری دونوں رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا، پھر اپنے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سر اٹھایا، پھر اپنے اسی سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ ( یعنی سجدہ سہو کیا ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن عمر، ذوالیدین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کے بارے میں اہل علم کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اہل کوفہ کہتے ہیں کہ جب کوئی نماز میں بھول کر یا لاعلمی میں یا کسی بھی وجہ سے بات کر بیٹھے تو اسے نئے سرے سے نماز دہرانی ہو گی۔ وہ اس حدیث میں مذکور واقعہ کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت سے پہلے کا ہے ۱؎، ۴- رہے امام شافعی تو انہوں نے اس حدیث کو صحیح جانا ہے اور اسی کے مطابق انہوں نے فتویٰ دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ حدیث اُس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو روزہ دار کے سلسلے میں مروی ہے کہ جب وہ بھول کر کھا لے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں، کیونکہ وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے روزہ دار کے قصداً اور بھول کر کھانے میں جو تفریق کی ہے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کی وجہ سے ہے، ۵- امام احمد ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر امام یہ سمجھ کر کہ اس کی نماز پوری ہو چکی ہے کوئی بات کر لے پھر اسے معلوم ہو کہ اس کی نماز پوری نہیں ہوئی ہے تو وہ اپنی نماز پوری کر لے، اور جو امام کے پیچھے مقتدی ہو اور بات کر لے اور یہ جانتا ہو کہ ابھی کچھ نماز اس کے ذمہ باقی ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے دوبارہ پڑھے، انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرائض کم یا زیادہ کئے جا سکتے تھے۔ اور ذوالیدین رضی الله عنہ نے جو بات کی تھی تو وہ محض اس وجہ سے کہ انہیں یقین تھا کہ نماز کامل ہو چکی ہے اور اب کسی کے لیے اس طرح بات کرنا جائز نہیں جو ذوالیدین کے لیے جائز ہو گیا تھا، کیونکہ اب فرائض میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی ۱؎، ۶- احمد کا قول بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی اس باب میں احمد جیسی بات کہی ہے۔
حدیث 400 — جامع الترمذي 2:253
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ وَأَوْسٍ الثَّقَفِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَطَاءٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي شَيْبَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
سعید بن یزید (ابو مسلمہ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ابی حبیبۃ، عبداللہ بن عمرو، عمرو بن حریث، شداد بن اوسثقفی، ابوہریرہ رضی الله عنہم اور عطاء سے بھی جو بنی شیبہ کے ایک فرد تھے احادیث آئی ہیں، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
حدیث 401 — جامع الترمذي 2:254
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَخُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمُ الْقُنُوتَ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ لاَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ إِلاَّ عِنْدَ نَازِلَةٍ تَنْزِلُ بِالْمُسْلِمِينَ فَإِذَا نَزَلَتْ نَازِلَةٌ فَلِلإِمَامِ أَنْ يَدْعُوَ لِجُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم فجر اور مغرب میں قنوت پڑھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، اور خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- فجر میں قنوت پڑھنے کے سلسلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے فجر میں قنوت پڑھنے کی ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ فجر میں قنوت نہ پڑھے، الا یہ کہ مسلمانوں پر کوئی مصیبت نازل ہوئی ہو تو ایسی صورت میں امام کو چاہیئے کہ مسلمانوں کے لشکر کے لیے دعا کرے۔
حدیث 402 — جامع الترمذي 2:255
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي يَا أَبَةِ إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ هَا هُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ أَكَانُوا يَقْنُتُونَ قَالَ أَىْ بُنَىَّ مُحْدَثٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ إِنْ قَنَتَ فِي الْفَجْرِ فَحَسَنٌ وَإِنْ لَمْ يَقْنُتْ فَحَسَنٌ ‏.‏ وَاخْتَارَ أَنْ لاَ يَقْنُتَ ‏.‏ وَلَمْ يَرَ ابْنُ الْمُبَارَكِ الْقُنُوتَ فِي الْفَجْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ ‏.‏
ابو مالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ ( طارق بن اشیم رضی الله عنہ ) سے عرض کیا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور علی رضی الله عنہ کے پیچھے بھی یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ برس تک پڑھی ہے، کیا یہ لوگ ( برابر ) قنوت ( قنوت نازلہ ) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! یہ بدعت ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اگر فجر میں قنوت پڑھے تو بھی اچھا ہے اور اگر نہ پڑھے تو بھی اچھا ہے، ویسے انہوں نے پسند اسی بات کو کیا ہے کہ نہ پڑھے اور ابن مبارک فجر میں قنوت پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے۔
حدیث 403 — جامع الترمذي 2:256
صحیح
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏
ابوعوانہ نے ابو مالک اشجعی سے اسی سند سے اسی مفہوم کی اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
حدیث 404 — جامع الترمذي 2:257
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ عَمِّ، أَبِيهِ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى ‏.‏ فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ فَقَالَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ ‏"‏ مَنِ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعِ ابْنِ عَفْرَاءَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلاَثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ رِفَاعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ فِي التَّطَوُّعِ لأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ قَالُوا إِذَا عَطَسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلاَةِ الْمَكْتُوبَةِ إِنَّمَا يَحْمَدُ اللَّهَ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُوَسِّعُوا فِي أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ‏.‏
رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، مجھے چھینک آئی تو میں نے «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» کہا جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نماز پڑھ کر پلٹے تو آپ نے پوچھا: ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ تو کسی نے جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات دوبارہ پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ اس بار بھی کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، پھر آپ نے یہی بات تیسری بار پوچھی کہ ”نماز میں کون بول رہا تھا؟“ رفاعہ بن رافع رضی الله عنہ نے عرض کیا: میں تھا اللہ کے رسول! آپ نے پوچھا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا: یوں کہا تھا «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا ويرضى» تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تیس سے زائد فرشتے اس پر جھپٹے کہ اسے کون لے کر آسمان پر چڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رفاعہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس، وائل بن حجر اور عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک یہ واقعہ نفل کا ہے ۱؎ اس لیے کہ تابعین میں سے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی فرض نماز میں چھینکے تو الحمدللہ اپنے جی میں کہے اس سے زیادہ کی ان لوگوں نے اجازت نہیں دی۔
حدیث 405 — جامع الترمذي 2:258
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنَّا نَتَكَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى نَزَلَتْ ‏:‏ ‏(‏وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ ‏)‏ فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلاَمِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ قَالُوا إِذَا تَكَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلاَةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلاَةَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا تَكَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلاَةِ أَعَادَ الصَّلاَةَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلاً أَجْزَأَهُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ ‏.‏
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «‏وقوموا لله قانتين» ”اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو“ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کر لے تو نماز دہرائے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہو جائے تو نماز کافی ہو گی، ۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
حدیث 406 — جامع الترمذي 2:259
حسنحسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ إِنِّي كُنْتُ رَجُلاً إِذَا سَمِعْتُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ وَإِذَا حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ وَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَطَهَّرُ ثُمَّ يُصَلِّي ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلاَّ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ ‏:‏ ‏(‏وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَأَنَسٍ وَأَبِي أُمَامَةَ وَمُعَاذٍ وَوَاثِلَةَ وَأَبِي الْيَسَرِ وَاسْمُهُ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ‏.‏ وَرَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ فَرَفَعُوهُ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ‏.‏ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمِسْعَرٌ فَأَوْقَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مِسْعَرٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَرْفُوعًا أَيْضًا ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ لأَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ حَدِيثًا مَرْفُوعًا إِلاَّ هَذَا ‏.‏
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں جب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو اللہ اس سے مجھے نفع پہنچاتا، جتنا وہ پہنچانا چاہتا۔ اور جب آپ کے اصحاب میں سے کوئی آدمی مجھ سے بیان کرتا تو میں اس سے قسم لیتا۔ ( کیا واقعی تم نے یہ حدیث رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ ) جب وہ میرے سامنے قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، مجھ سے ابوبکر رضی الله عنہ نے بیان کیا اور ابوبکر رضی الله عنہ نے سچ بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو شخص گناہ کرتا ہے، پھر جا کر وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون» ”اور جب ان سے کوئی ناشائستہ حرکت یا کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کر کے فوراً استغفار کرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کون گناہ بخش سکتا ہے، اور وہ جان بوجھ کر کسی گناہ پر اڑے نہیں رہتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے یعنی عثمان بن مغیرہ ہی کی سند سے جانتے ہیں، ۲- اور ان سے شعبہ اور دوسرے اور لوگوں نے بھی روایت کی ہے ان لوگوں نے اسے ابوعوانہ کی حدیث کی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اسے سفیان ثوری اور مسعر نے بھی روایت کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اور مسعر سے یہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے اور سوائے اس حدیث کے اسماء بن حکم کی کسی اور مرفوع حدیث کا ہمیں علم نہیں، ۳- اس باب میں ابن مسعود، ابو الدردائ، انس، ابوامامہ، معاذ، واثلہ، اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 407 — جامع الترمذي 2:260
حسن Sahihحسن SahihحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَلِّمُوا الصَّبِيَّ الصَّلاَةَ ابْنَ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا ابْنَ عَشْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالاَ مَا تَرَكَ الْغُلاَمُ بَعْدَ الْعَشْرِ مِنَ الصَّلاَةِ فَإِنَّهُ يُعِيدُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَبْرَةُ هُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ وَيُقَالَ هُوَ ابْنُ عَوْسَجَةَ ‏.‏
سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات برس کے بچے کو نماز سکھاؤ، اور دس برس کے بچے کو نماز نہ پڑھنے پر مارو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سبرہ بن معبد جہنی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ”جو لڑکا دس برس کے ہو جانے کے بعد نماز چھوڑے وہ اس کی قضاء کرے
حدیث 408 — جامع الترمذي 2:261
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْمُلَقَّبُ، مَرْدَوَيْهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ رَافِعٍ، وَبَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَحْدَثَ - يَعْنِي الرَّجُلَ - وَقَدْ جَلَسَ فِي آخِرِ صَلاَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلاَتُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ ‏.‏ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا ‏.‏ قَالُوا إِذَا جَلَسَ مِقْدَارَ التَّشَهُّدِ وَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُهُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا أَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَشَهَّدَ وَقَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ أَعَادَ الصَّلاَةَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ إِذَا لَمْ يَتَشَهَّدْ وَسَلَّمَ أَجْزَأَهُ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ ‏"‏ وَالتَّشَهُّدُ أَهْوَنُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي اثْنَتَيْنِ فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِذَا تَشَهَّدَ وَلَمْ يُسَلِّمْ أَجْزَأَهُ ‏.‏ وَاحْتَجَّ بِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ حِينَ عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم التَّشَهُّدَ فَقَالَ ‏"‏ إِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الإِفْرِيقِيُّ وَقَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کو سلام پھیرنے سے پہلے «حدث» لاحق ہو جائے اور وہ اپنی نماز کے بالکل آخر میں یعنی قعدہ اخیرہ میں بیٹھ چکا ہو تو اس کی نماز درست ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند کوئی خاص قوی نہیں، اس کی سند میں اضطراب ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم، جو افریقی ہیں کو بعض محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ان میں یحییٰ بن سعید قطان اور احمد بن حنبل بھی شامل ہیں، ۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی تشہد کی مقدار کے برابر بیٹھ چکا ہو اور سلام پھیرنے سے پہلے اسے «حدث» لاحق ہو جائے تو پھر اس کی نماز پوری ہو گئی، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب «حدث» تشہد پڑھنے سے یا سلام پھیرنے سے پہلے لاحق ہو جائے تو نماز دہرائے۔ شافعی کا یہی قول ہے، ۵- اور احمد کہتے ہیں: جب وہ تشہد نہ پڑھے اور سلام پھیر دے تو اس کی نماز اسے کافی ہو جائے گی، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «وتحليلها التسليم» یعنی نماز میں جو چیزیں حرام ہوئی تھیں سلام پھیرنے ہی سے حلال ہوتی ہیں، بغیر سلام کے نماز سے نہیں نکلا جا سکتا اور تشہد اتنا اہم نہیں جتنا سلام ہے کہ اس کے ترک سے نماز درست نہ ہو گی، ایک بار نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم دو رکعت کے بعد کھڑے ہو گئے اپنی نماز جاری رکھی اور تشہد نہیں کیا، ۶- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: جب تشہد کر لے اور سلام نہ پھیرا ہو تو نماز ہو گئی، انہوں نے ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں تشہد سکھایا تو فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہو گئے تو تم نے اپنا فریضہ پورا کر لیا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔