عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سب سے آخری وصیت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے یہ کی کہ ”مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عثمان رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، انہوں نے مکروہ جانا ہے کہ مؤذن اذان پر اجرت لے اور مستحب قرار دیا ہے کہ مؤذن اذان اجر و ثواب کی نیت سے دے ۱؎۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» ”اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی الله علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی الله علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں“ تو اس کے ( صغیرہ ) گناہ بخش دیے جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف لیث بن سعد کی سند سے جانتے ہیں جسے وہ حکیم بن عبداللہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة» ”اے اللہ! اس کامل دعوت ۱؎ اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! ( ہمارے نبی ) محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) کو وسیلہ ۲؎ اور فضیلت ۳؎ عطا کر، اور انہیں مقام محمود ۴؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے“ کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہو جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جابر رضی الله عنہ کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے۔
حدیث 212 — جامع الترمذي 2:64
صحیحصحیحصحیح
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الدُّعَاءُ لاَ يُرَدُّ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ هَذَا .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی حدیث حسن صحیح ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ ( کم کرتے کرتے ) پانچ کر دی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ۲- اس باب میں عبادہ بن صامت، طلحہ بن عبیداللہ، ابوذر، ابوقتادہ، مالک بن صعصہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، انس اور حنظلہ اسیدی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”باجماعت نماز تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوسعید، ابوہریرہ اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نافع نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلاۃ باجماعت آدمی کی تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔ ۴- عام رواۃ نے ( صحابہ ) نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ”پچیس درجے“ نقل کیا ہے، صرف ابن عمر نے ”ستائیس درجے“ کی روایت کی ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی باجماعت نماز اس کی تنہا نماز سے پچیس گنا بڑھ کر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے کچھ نوجوانوں کو میں لکڑی کے گٹھر اکٹھا کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں تو کھڑی کی جائے، پھر میں ان لوگوں ( کے گھروں ) کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، معاذ بن انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ جو اذان سنے اور نماز میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، ۴- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ برسبیل تغلیظ ہے ( لیکن ) ، کسی کو بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں۔
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو۔ اور جمعہ میں حاضر نہ ہوتا ہو، تو انہوں نے کہا: وہ جہنم میں ہو گا۔ مجاہد کہتے ہیں: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ میں ان سے بے رغبتی کرتے ہوئے، انہیں حقیر جانتے ہوئے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضر نہ ہوتا ہو۔