ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رمضان کے جو روزے مجھ پر رہ جاتے انہیں میں شعبان ہی میں قضاء کر پاتی تھی۔ جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نہیں ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 784 — جامع الترمذي 8:103
ضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ لَيْلَى، عَنْ مَوْلاَتِهَا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلاَئِكَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ لَيْلَى عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
لیلیٰ کی مالکن (ام عمارہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: شعبہ نے بھی یہ حدیث بطریق: «حبيب بن زيد عن ليلى عن جدته أم عمارة عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے اسی طرح روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم بھی کھاؤ“، انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں“۔ بعض روایتوں میں ہے ”جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہو جائیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہ شریک کی ( اوپر والی ) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے اس میں «حتى يفرغوا أو يشبعوا» کا ذکر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ام عمارہ حبیب بن زید انصاری کی دادی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا پھر ہم پاک ہو جاتے تو آپ ہمیں روزے قضاء کرنے کا حکم دیتے اور نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ معاذہ سے بھی مروی ہے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، ہم ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ حائضہ عورت روزے کی قضاء کرے گی، نماز کی نہیں کرے گی۔
لقیط بن صبرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”کامل طریقے سے وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرو، إلا یہ کہ تم روزے سے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم نے روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ۳- اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جماعت کے ہاں اترے یعنی ان کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- ہم ثقات میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے روایت کی ہو، ۳- موسیٰ بن داود نے یہ حدیث بطریق: «أبي بكر المدني عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، ۴- یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ابوبکر اہل الحدیث کے نزدیک ضعیف ہیں، اور ابوبکر مدنی جو جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، ان کا نام فضل بن مبشر ہے، وہ ان سے زیادہ ثقہ اور ان سے پہلے کے ہیں ۱؎۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ۱؎ کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ اور عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابولیلیٰ، ابوسعید، انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھتے پھر اپنے معتکف ( جائے اعتکاف ) میں داخل ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے بواسطہ عمرۃ مرسلاً بھی مروی ہے ( اس میں عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں ) ، ۲- اور اسے مالک اور دیگر کئی لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے عمرۃ سے مرسلاً ہی روایت کی ہے، ۳- اور اوزاعی، سفیان ثوری اور دیگر لوگوں نے بطریق: «يحيى بن سعيد عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، ۴- بعض اہل علم کے نزدیک عمل اسی حدیث پر ہے، وہ کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو فجر پڑھے، پھر اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں داخل ہو جائے، احمد اور اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو اگلے دن جس میں وہ اعتکاف کرنا چاہتا ہے کی رات کا سورج ڈوب جائے تو وہ اپنے معتکف ( اعتکاف کی جگہ ) میں بیٹھا ہو، یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے ۱؎۔