حسن بصری کہتے ہیں کہ اس حدیث صبح کو آدمی مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا اور شام کو مومن ہو گا اور صبح کو کافر ہو جائے گا، کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صبح کو اپنے بھائی کی جان، عزت اور مال کو حرام سمجھے گا اور شام کو حلال سمجھے گا۔
حدیث 2199 — جامع الترمذي 33:42
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَجُلٌ سَأَلَهُ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَمْنَعُونَا حَقَّنَا وَيَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اس وقت آپ سے ایک آدمی سوال کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: آپ بتائیے اگر ہمارے اوپر ایسے حکام الحکمرانی کریں جو ہمارا حق نہ دیں اور اپنے حق کا مطالبہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا حکم سنو اور ان کی اطاعت کرو، اس لیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہیں اور تم اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جس میں علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج زیادہ ہو جائے گا“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہرج کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”قتل و خوں ریزی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، خالد بن ولید اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ معلی سے روایت کرتے ہیں۔
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی رضی الله عنہ آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا: میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے وصیت کی کہ ”جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں“، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں: چنانچہ علی رضی الله عنہ نے میرے والد کو چھوڑ دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عبیداللہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں محمد بن مسلمہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے بارے میں فرمایا: ”اس وقت تم اپنی کمانیں توڑ ڈالو، کمانوں کی تانت کاٹ ڈالو، اپنے گھروں کے اندر چپکے بیٹھے رہو اور آدم کے بیٹے ( ہابیل ) کے مانند ہو جاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدیث 2205 — جامع الترمذي 33:48
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَأَبِي هُرَيْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ۱؎، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہو جانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی الله عنہ کے گھر گئے اور ان سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی، تو انہوں نے کہا: ”آنے والا ہر سال ( گزرے ہوئے سال سے ) برا ہو گا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو“، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔