مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قیامت کے زمانہ ہی میں بھیجا گیا پھر میں اس پر سبقت لے گیا جیسے یہ انگلی اس انگلی پر سبقت لے گئی، اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث مستورد بن شداد کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں“ ( یہ بتانے کے لیے ) ابوداؤد نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے جوتے بال کے ہوں گے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے چہرے تہہ بہ تہہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہوں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، بریدہ، ابوسعید، عمرو بن تغلب اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہو گا، جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہو گا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ان کے خزانے کو اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ( اور یہ واقع ہو چکا ہے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”تم شام چلے جانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ بن اسید، انس، ابوہریرہ اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تقریباً تیس دجال اور کذاب نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں، اور بتوں کی پرستش کریں، اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے ( دعویدار ) نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی ( دوسرا ) نبی نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ۱؎۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن فضیل نے یہ حدیث اسی طرح «عن الأعمش عن علي بن مدرك عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، کئی حفاظ نے اسے «عن الأعمش عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، اس میں علی بن مدرک کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کے درمیان میں بھیجا گیا ہوں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے“، عمران بن حصین کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانہ کا ذکر کیا یا نہیں، ”پھر اس کے بعدا یسے لوگ پیدا ہوں گے جن سے گواہی نہیں طلب کی جائے گی پھر بھی گواہی دیتے رہیں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔