قرآني·Qurani
اردو

اللباس

68 احادیث · #1720–1787

حدیث 1780 — جامع الترمذي 24:68
Very DaifVery Daifضعیف
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِيكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الأَغْنِيَاءِ وَلاَ تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي حَسَّانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ثِقَةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الأَغْنِيَاءِ ‏"‏ ‏.‏ هُوَ نَحْوُ مَا رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لاَ يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ صَحِبْتُ الأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْثَرَ هَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تم ( آخرت میں ) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں،
حدیث 1781 — جامع الترمذي 24:69
صحیحصحیح
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں۔
حدیث 1782 — جامع الترمذي 24:71
ضعیفضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الأَنْمَارِيَّ، يَقُولُ كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُطْحًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ ‏.‏ وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةٌ ‏.‏
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔
حدیث 1783 — جامع الترمذي 24:72
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ فَقَالَ ‏ "‏ هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلُ فَإِنْ أَبَيْتَ فَلاَ حَقَّ لِلإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ‏.‏
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا: ”یہ تہبند کی جگہ ہے، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کر لو، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کر سکتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔
حدیث 1784 — جامع الترمذي 24:73
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ، صَارَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قَالَ رُكَانَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلاَنِسِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلاَنِيَّ وَلاَ ابْنَ رُكَانَةَ ‏.‏
محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پچھاڑ دیا، رکانہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قائم ( صحیح ) نہیں ہے، ۳- ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں۔
حدیث 1785 — جامع الترمذي 24:74
ضعیفضعیفحسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الأَصْنَامِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ ‏"‏ مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مِنْ أَىِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ قَالَ ‏"‏ مِنْ وَرِقٍ وَلاَ تُتِمَّهُ مِثْقَالاً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ ‏.‏
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو؟“ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا، آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا، تو آپ نے فرمایا: ”کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو؟ اس نے پوچھا: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ نے فرمایا: ”چاندی کی اور ( وزن میں ) ایک مثقال سے کم رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے، ۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں۔
حدیث 1786 — جامع الترمذي 24:75
صحیحضعیفحسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ ‏.‏ وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَابْنُ أَبِي مُوسَى هُوَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى وَاسْمُهُ عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ‏.‏
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قسي» ( ایک ریشمی کپڑا ) سرخ ( رنگ کا ریشمی ) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 1787 — جامع الترمذي 24:76
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَلْبَسُهَا الْحِبَرَةُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔