قرآني·Qurani
اردو

المناقب

352 احادیث · #3605–3956

حدیث 3755 — جامع الترمذي 49:152
صحیحصحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
‏حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلاَّ لِسَعْدٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ ‏ "‏ ارْمِ سَعْدٌ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ”سعد تم تیر مارو، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث 3756 — جامع الترمذي 49:153
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً قَالَ ‏"‏ لَيْتَ رَجُلاً صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلاَحِ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا جَاءَ بِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ ‏.‏ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ نَامَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: ”کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا“، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد رضی الله عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3757 — جامع الترمذي 49:154
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ ‏.‏ قِيلَ وَكَيْفَ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحِرَاءَ فَقَالَ ‏ "‏ اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ وَمَنْ هُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ‏.‏ قِيلَ فَمَنِ الْعَاشِرُ قَالَ أَنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ ( ذرا اس کی وضاحت کیجئے ) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ”ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ۱؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں“، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ ( انہوں نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں رضی الله عنہم، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے۔
حدیث 3758 — جامع الترمذي 49:155
ضعیفضعیف
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: ”تم غصہ کیوں ہو؟“ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا ( دشمنی ) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3759 — جامع الترمذي 49:157
ضعیفضعیف
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدیث 3760 — جامع الترمذي 49:159
صحیح Lighairihiصحیحصحیح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ الأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ ‏ "‏ إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ‏"‏ ‏.‏ وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: ”بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“ عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3761 — جامع الترمذي 49:160
صحیحصحیحصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ أَوْ مِنْ صِنْوِ أَبِيهِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدیث 3762 — جامع الترمذي 49:161
حسنحسنحسنضعیف
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْعَبَّاسِ ‏"‏ إِذَا كَانَ غَدَاةُ الاِثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً لاَ تُغَادِرُ ذَنْبًا اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ ‏"‏ ‏.هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی الله عنہ سے فرمایا: ”دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے“، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: ”اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدیث 3763 — جامع الترمذي 49:162
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلاَئِكَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ‏.‏ وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت آئی ہے۔
حدیث 3764 — جامع الترمذي 49:163
صحیح Isnaad Mauqufصحیح Isnaad Mauqufحسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلاَ انْتَعَلَ وَلاَ رَكِبَ الْمَطَايَا وَلاَ رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏‏ وَالْكُورُ الرَّحْلُ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔