قرآني·Qurani
اردو

المناقب

352 احادیث · #3605–3956

حدیث 3835 — جامع الترمذي 49:235
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Bukhari And Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْمَعُ مِنْكَ أَشْيَاءَ فَلاَ أَحْفَظُهَا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ ابْسُطْ رِدَاءَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَبَسَطْتُ فَحَدَّثَ حَدِيثًا كَثِيرًا فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا: ”اپنی چادر پھیلاؤ“، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
حدیث 3836 — جامع الترمذي 49:236
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ لأَبِي هُرَيْرَةَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ كُنْتَ أَلْزَمَنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہا: ابوہریرہ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث 3837 — جامع الترمذي 49:237
ضعیف Isnaadضعیف Isnaadضعیف
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَأَيْتَ هَذَا الْيَمَانِيَ يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ هُوَ أَعْلَمُ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْكُمْ نَسْمَعُ مِنْهُ مَا لاَ نَسْمَعُ مِنْكُمْ أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ ‏.‏ قَالَ أَمَّا أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ فَلاَ أَشُكُّ إِلاَّ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ وَذَاكَ أَنَّهُ كَانَ مِسْكِينًا لاَ شَىْءَ لَهُ ضَيْفًا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدُهُ مَعَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكُنَّا نَحْنُ أَهْلَ بُيُوتَاتٍ وَغِنًى وَكُنَّا نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَفَىِ النَّهَارِ فَلاَ نَشُكُّ إِلاَّ أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ نَسْمَعْ وَلاَ نَجِدُ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا لَمْ يَقُلْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ‏.‏
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ ( کھانے پینے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
حدیث 3838 — جامع الترمذي 49:238
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مِمَّنْ أَنْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مِنْ دَوْسٍ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس قبیلہ سے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: ”میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو گا جس میں خیر ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
حدیث 3839 — جامع الترمذي 49:239
حسن Isnaadحسن IsnaadحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُهَاجِرُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ ‏.‏ فَضَمَّهُنَّ ثُمَّ دَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ فَقَالَ لِي ‏ "‏ خُذْهُنَّ وَاجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدِكَ هَذَا أَوْ فِي هَذَا الْمِزْوَدِ كُلَّمَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا فَأَدْخِلْ فِيهِ يَدَكَ فَخُذْهُ وَلاَ تَنْثُرْهُ نَثْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَدْ حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا مِنْ وَسْقٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَكُنَّا نَأْكُلُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لاَ يُفَارِقُ حَقْوِي حَتَّى كَانَ يَوْمُ قَتْلِ عُثْمَانَ فَإِنَّهُ انْقَطَعَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کر لے لو، اسے بکھیرو نہیں چنانچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ۱؎ اور وہ ( تھیلی ) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن عثمان رضی الله عنہ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر ( کہیں ) گر گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔
حدیث 3840 — جامع الترمذي 49:240
حسن Isnaadحسن IsnaadحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي هُرَيْرَةَ لِمَ كُنِّيتَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَا تَفْرَقُ مِنِّي قُلْتُ بَلَى وَاللَّهِ إِنِّي لأَهَابُكَ ‏.‏ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمَ أَهْلِي فَكَانَتْ لِي هُرَيْرَةٌ صَغِيرَةٌ فَكُنْتُ أَضَعُهَا بِاللَّيْلِ فِي شَجَرَةٍ فَإِذَا كَانَ النَّهَارُ ذَهَبْتُ بِهَا مَعِي فَلَعِبْتُ بِهَا فَكَنَّوْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ ‏. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدیث 3841 — جامع الترمذي 49:241
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنِّي إِلاَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لاَ أَكْتُبُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3842 — جامع الترمذي 49:242
صحیحصحیحIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ، وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدیث 3843 — جامع الترمذي 49:243
صحیح Lighairihiصحیحضعیفضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، قَالَ لَمَّا عَزَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ عَنْ حِمْصَ، وَلَّى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ النَّاسُ عَزَلَ عُمَيْرًا وَوَلَّى مُعَاوِيَةَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَيْرٌ لاَ تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلاَّ بِخَيْرٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏, وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ يُضَعَّفُ ‏.‏
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ رضی الله عنہ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کر دیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ رضی الله عنہ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» ”اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔
حدیث 3844 — جامع الترمذي 49:244
حسنحسنIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَسْلَمَ النَّاسُ وَآمَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ ‏.‏
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اسلام لائے اور عمرو بن العاص رضی الله عنہ ایمان لائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔