ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں ( اچھی آوازوں ) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» ”اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔
حدیث 3857 — جامع الترمذي 49:257
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ " اللَّهُمَّ لاَ عَيْشَ إِلاَّ عَيْشُ الآخِرَةِ فَأَكْرِمِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ رضى الله عنه .
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- انس رضی الله عنہ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جہنم کی آگ کسی ایسے مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے“، طلحہ ( راوی حدیث ) نے کہا: تو میں نے جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا: میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ ( راوی حدیث ) نے کہا: اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ۱؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ۲؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ۳؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی“ ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، عمران بن حصین اور بریدہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدیث 3860 — جامع الترمذي 49:260
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن لوگوں نے ( حدیبیہ میں ) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے ( اجر کے ) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف ( آدھا ) مد ہے۔
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے ) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدیث 3864 — جامع الترمذي 49:264
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا، لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَشْكُو حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَذَبْتَ لاَ يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی الله عنہ کا ایک غلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔