سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے ( سمرہ سے ) کہا: تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: تمہیں تعجب کس بات پر ہے؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تھا، جب ہم اس کے بعض اطراف میں نکلے تو جو بھی پہاڑ اور درخت آپ کے سامنے آتے سبھی ”السلام علیک یا رسول اللہ“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- کئی لوگوں نے یہ حدیث ولید بن ابی ثور سے روایت کی ہے اور ان سب نے «عن عباد أبي يزيد» کہا ہے، اور انہیں میں سے فروہ بن ابی المغراء بھی ہیں ۱؎۔
حدیث 3627 — جامع الترمذي 49:23
صحیحصحیححسن SahihIsnaad Hasan
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ إِلَى لِزْقِ جِذْعٍ وَاتَّخَذُوا لَهُ مِنْبَرًا فَخَطَبَ عَلَيْهِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَنِينَ النَّاقَةِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَمَسَّهُ فَسَكَنَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىٍّ وَجَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، پھر لوگوں نے آپ کے لیے ایک منبر تیار کر دیا، آپ نے اس پر خطبہ دیا تو وہ تنا رونے لگا جیسے اونٹنی روتی ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر اس پر ہاتھ پھیرا تب وہ چپ ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس والی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی، جابر، ابن عمر، سہل بن سعد، ابن عباس اور ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدیث 3628 — جامع الترمذي 49:24
صحیحصحیحضعیف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بِمَ أَعْرِفُ أَنَّكَ نَبِيٌّ قَالَ " إِنْ دَعَوْتُ هَذَا الْعِذْقَ مِنْ هَذِهِ النَّخْلَةِ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجَعَلَ يَنْزِلُ مِنَ النَّخْلَةِ حَتَّى سَقَطَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " ارْجِعْ " . فَعَادَ فَأَسْلَمَ الأَعْرَابِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: کیسے میں جانوں کہ آپ نبی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر میں اس کھجور کے درخت کی اس ٹہنی کو بلا لوں تو کیا تم میرے بارے میں اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دو گے؟“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ ( ٹہنی ) کھجور کے درخت سے اتر کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گر پڑی، پھر آپ نے فرمایا: ”لوٹ جا تو وہ واپس چلی گئی یہ دیکھ کر وہ اعرابی اسلام لے آیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
ابوزید بن اخطب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے چہرے پر پھیرا اور میرے لیے دعا فرمائی، عزرہ کہتے ہیں: وہ ایک سو بیس سال تک پہنچے ہیں پھر بھی ان کے سر کے صرف چند بال سفید ہوئے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوزید کا نام عمرو بن اخطب ہے۔
حدیث 3630 — جامع الترمذي 49:26
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ عَرَضْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي ضَعِيفًا - أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ . فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ دَسَّتْهُ فِي يَدِي وَرَدَّتْنِي بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ قَالَ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ " بِطَعَامٍ " . فَقُلْتُ نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا " . قَالَ فَانْطَلَقُوا فَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ مَعَهُ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ . قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ " . فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً لَهَا فَآدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ " . فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلاً . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ام سلیم رضی الله عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی، وہ کمزور تھی، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں، کیا تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں پھر اپنی اوڑھنی نکالی اور اس کے کچھ حصہ میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ یعنی بغل کے نیچے چھپا دیں اور اوڑھنی کا کچھ حصہ مجھے اڑھا دیا، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ملے اور آپ کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، تو میں جا کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کھانا لے کر؟“ میں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لوگوں سے جو آپ کے ساتھ تھے فرمایا: ”اٹھو چلو“، چنانچہ وہ سب چل پڑے اور میں ان کے آگے آگے چلا، یہاں تک کہ میں ابوطلحہ رضی الله عنہ کے پاس آیا اور انہیں اس کی خبر دی، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے کہا: ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں جو ہم انہیں کھلائیں، ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو خوب معلوم ہے، تو ابوطلحہ رضی الله عنہ چلے اور آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ابوطلحہ رضی الله عنہ آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ دونوں اندر آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام سلیم! جو تمہارے پاس ہے اسے لے آؤ“، چنانچہ وہ وہی روٹیاں لے کر آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں توڑنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ توڑی گئیں اور ام سلیم نے اپنے گھی کی کُپّی کو اس پر اوندھا کر دیا اور اسے اس میں چیپڑ دیا، پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا جو اللہ نے پڑھوانا چاہا، پھر آپ نے فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا اور وہ کھا کر آسودہ ہو گئے، پھر وہ نکل گئے، پھر آپ نے فرمایا: ”دس کو اندر آنے دو“، تو انہوں نے انہیں آنے دیا وہ بھی کھا کر خوب آسودہ ہو گئے اور نکل گئے، اس طرح سارے لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا اور وہ سب کے سب ستر یا اسی آدمی تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3631 — جامع الترمذي 49:27
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَانَتْ صَلاَةُ الْعَصْرِ وَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ فِي ذَلِكَ الإِنَاءِ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ . قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، عصر کا وقت ہو گیا تھا، لوگوں نے وضو کا پانی ڈھونڈھا، لیکن وہ نہیں پا سکے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ وضو کا پانی لایا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے وضو کریں، وہ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی ابلتے دیکھا، پھر لوگوں نے وضو کیا یہاں تک کہ ان میں کا جو سب سے آخری شخص تھا اس نے بھی وضو کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمران بن حصین، ابن مسعود، جابر اور زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ پہلی وہ چیز جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء ہوئی اور جس وقت اللہ نے اپنے اعزاز سے آپ کو نوازنے اور آپ کے ذریعہ بندوں پر اپنی رحمت و بخشش کا ارادہ کیا وہ یہ تھی کہ آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر صبح کے پو پھٹنے کی طرح ظاہر ہو جاتی تھی ۱؎، پھر آپ کا حال ایسا ہی رہا جب تک اللہ نے چاہا، ان دنوں خلوت و تنہائی آپ کو ایسی مرغوب تھی کہ اتنی مرغوب کوئی اور چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدیث 3633 — جامع الترمذي 49:29
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الآيَاتِ عَذَابًا وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرَكَةً لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ . قَالَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حَىَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ السَّمَاءِ " . حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3634 — جامع الترمذي 49:30
صحیحصحیححسن Sahihصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّ عَلَىَّ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْىُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ حارث بن ہشام رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی کبھی وہ میرے پاس گھنٹی کی آواز ۱؎ کی طرح آتی ہے اور یہ میرے لیے زیادہ سخت ہوتی ہے ۲؎ اور کبھی کبھی فرشتہ میرے سامنے آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو وہ جو کہتا ہے اسے میں یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے دیکھی جب وہ وحی ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پر پسینہ آیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔