قرآني·Qurani
اردو

المناقب

352 احادیث · #3605–3956

حدیث 3645 — جامع الترمذي 49:41
ضعیفضعیفضعیف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ فِي سَاقَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُمُوشَةٌ وَكَانَ لاَ يَضْحَكُ إِلاَّ تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ۱؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدیث 3646 — جامع الترمذي 49:42
صحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوسَ الْعَقِبِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3647 — جامع الترمذي 49:43
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ وَاسِعُ الْفَمِ ‏.‏ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ اللَّحْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3648 — جامع الترمذي 49:44
ضعیفضعیفصحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَأَنَّمَا الأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدیث 3649 — جامع الترمذي 49:45
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عُرِضَ عَلَىَّ الأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ ‏"‏ ‏.‏ هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدیث 3650 — جامع الترمذي 49:46
ShadhShadhحسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔
حدیث 3651 — جامع الترمذي 49:47
ShadhShadhحسنحسن
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ،قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ،قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ،قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنُ الإِسْنَادِ صَحِيحٌ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث 3652 — جامع الترمذي 49:48
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ - يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَلاَ يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ رُؤْيَةٌ ‏.‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔
حدیث 3653 — جامع الترمذي 49:49
صحیحصحیححسن Sahihصحیح Muslim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، يَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی الله عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی ( اس وقت ) ترسٹھ سال کا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث 3654 — جامع الترمذي 49:50
صحیحصحیححسن Sahihصحیح
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، فِي حَدِيثِهِ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے زہری کے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ بن مسلم ) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔