انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے نکلے گا ( شعبہ نے اپنی روایت میں کہا ہے: ( اللہ تعالیٰ کہے گا، اسے جہنم سے نکال لو ) جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا، اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھلائی تھی، اسے جہنم سے نکالو جس نے «لا إلٰہ إلا اللہ» کہا اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھلائی تھی۔ ( شعبہ نے کہا ہے: جوار کے برابر بھلائی تھی ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابو سعید خدری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کہے گا: اسے جہنم سے نکال لو جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیا یا ایک مقام پر بھی مجھ سے ڈرا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، وہ ایسا آدمی ہو گا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: چلو جنت میں داخل ہو جاؤ“، آپ نے فرمایا: ”وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا ( جنت کو اس حال میں ) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں، وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں؟ !“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: کیا وہ دن یاد ہیں جن میں ( دنیا کے اندر ) تھے؟“ وہ کہے گا: ہاں، اس سے کہا جائے گا: ”آرزو کرو“، آپ نے فرمایا: ”وہ آرزو کرے گا، اس سے کہا جائے گا: تمہارے لیے وہ تمام چیزیں جس کی تم نے آرزو کی ہے اور دنیا کے دس گنا ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”وہ کہے گا: ( اے باری تعالیٰ! ) آپ مذاق کر رہے ہیں حالانکہ آپ مالک ہیں“، ابن مسعود کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی کے دانت نظر آنے لگے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ( فرشتوں سے ) کہے گا: اس سے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کے بارے میں پوچھو اور اس کے بڑے گناہوں کو چھپا دو، اس سے کہا جائے گا: تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کئے تھے، تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کیے تھے؟“، آپ نے فرمایا: ”اس سے کہا جائے گا: تمہارے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی ہے“۔ آپ نے فرمایا: ”وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے کچھ ایسے بھی گناہ کیے تھے جسے یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں“۔ ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنستے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی دانت نظر آنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موحدین میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دئیے جائیں گے، یہاں تک کہ کوئلہ ہو جائیں گے، پھر ان پر رحمت الٰہی سایہ فگن ہو گی تو وہ نکالے جائیں گے اور جنت کے دروازے پر ڈال دئیے جائیں گے“۔ آپ نے فرمایا: ”جنتی ان پر پانی چھڑکیں گے تو وہ ویسے ہی اگیں گے جیسے سیلاب کی مٹیوں میں دانہ اگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ دوسری سند سے بھی جابر سے مروی ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم سے وہ آدمی نکلے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو گا، ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے کہا: جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے «إن الله لا يظلم مثقال ذرة» ”اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے“ ( النساء: ۴۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے دو آدمیوں کی چیخ بلند ہو گی“۔ رب عزوجل کہے گا: ان دونوں کو نکالو، جب انہیں نکالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: تمہاری چیخ کیوں بلند ہو رہی ہے؟ وہ دونوں عرض کریں گے: ہم نے ایسا اس وجہ سے کیا تاکہ تو ہم پر رحم کر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم دونوں کے لیے ہماری رحمت یہی ہے کہ تم جاؤ اور اپنے آپ کو اسی جگہ جہنم میں ڈال دو جہاں پہلے تھے۔ وہ دونوں چلیں گے ان میں سے ایک اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو ٹھنڈا اور سلامتی والی بنا دے گا اور دوسرا کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو نہیں ڈالے گا۔ اس سے رب عزوجل پوچھے گا: تمہیں جہنم میں اپنے آپ کو ڈالنے سے کس چیز نے روکا؟ جیسے تمہارے ساتھی نے اپنے آپ کو ڈالا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے امید ہے کہ تو جہنم سے نکالنے کے بعد اس میں دوبارہ نہیں داخل کرے گا، اس سے رب تعالیٰ کہے گا: تمہارے لیے تیری تمنا پوری کی جا رہی ہے، پھر وہ دونوں اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس لیے کہ یہ رشدین بن سعد کے واسطہ سے مروی ہے، اور رشدین بن سعد محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور رشدین عبدالرحمٰن بن انعم سے روایت کرتے ہیں، یہ ابن انعم افریقی ہیں اور افریقی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کی ایک جماعت میری شفاعت کے سبب جہنم سے نکلے گی ان کا نام جہنمی رکھا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والے سو رہے ہیں اور جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس کے طلب کرنے والے سو رہے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس کو ہم صرف یحییٰ بن عبیداللہ کی سند سے جانتے ہیں اور یحییٰ بن عبیداللہ اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے۔ یحییٰ بن عبیداللہ کے دادا کا نام موہب ہے اور وہ مدنی ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں اور جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں“۔