قرآني·Qurani
اردو

صفة النار

223 احادیث · #2573–2795

حدیث 2793 — جامع الترمذي 43:66
صحیحصحیحصحیح Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلاَ تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلاَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلاَ تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
حدیث 2794 — جامع الترمذي 43:67
حسنحسنحسنحسن
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ ‏"‏ احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلاَّ مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ قَالَ ‏"‏ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لاَ يَرَاهَا أَحَدٌ فَلاَ يَرَيَنَّهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا قَالَ ‏"‏ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يَسْتَحْيِيَ مِنْهُ النَّاسُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے نبی! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی شرمگاہ اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر ایک سے چھپاؤ“، میں نے پھر کہا: جب لوگ مل جل کر رہ رہے ہوں ( تو ہم کیا اور کیسے کریں؟ ) آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونا چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے“، میں نے پھر کہا: اللہ کے نبی! جب آدمی تنہا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں کے مقابل اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث 2795 — جامع الترمذي 39:19
صحیحصحیححسنحسن
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ زُرْعَةَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ جَرْهَدٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ جَدِّهِ، جَرْهَدٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِجَرْهَدٍ فِي الْمَسْجِدِ وَقَدِ انْكَشَفَ فَخِذُهُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ مَا أَرَى إِسْنَادَهُ بِمُتَّصِلٍ ‏.‏
جرہد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرہد کے پاس ( یعنی میرے پاس سے ) سے گزرے ( اس وقت ) ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ”ران بھی ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔