أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رضى الله عنهما - وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا صلى الله عليه وسلم فِي { إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ } وَ { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ } .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے اور جو ان دونوں سے بہتر تھے، انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے عشاء یعنی عتمہ کی نماز پڑھی، تو انہوں نے سورۃ «إذا السماء انشقت» پڑھی، اور اس میں سجدہ کیا، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! اسے تو ہم کبھی نہیں کرتے تھے، انہوں نے کہا: اسے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، اور میں آپ کے پیچھے تھا، میں یہ سجدہ برابر کرتا رہوں گا یہاں تک کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔
حدیث 969 — سنن النسائي 11:94
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كُلُّ صَلاَةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ .
عطاء کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قرآت کی جاتی ہے تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم بھی تم سے چھپا رہے ہیں۔
حدیث 970 — سنن النسائي 11:95
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ فِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَسْمَعْنَاكُمْ وَمَا أَخْفَاهَا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہر نماز میں قرآت ہے، تو جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنایا ہم تمہیں سنا رہے ہیں، اور جسے آپ نے ہم سے چھپایا ہم تم سے چھپا رہے ہیں ۱؎۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر پڑھتے تھے، تو ہم آپ سے سورۃ لقمان اور سورۃ والذاریات کی ایک آدھ آیت کئی آیتوں کے بعد سن لیتے تھے ۱؎۔
عبداللہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن نضر کو کہتے سنا کہ ہم طف میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے لوگوں کو ظہر پڑھائی، جب وہ فارغ ہوئے تو کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر پڑھی، تو آپ نے ( ظہر کی ) دونوں رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں یعنی «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز ظہر کھڑی کی جاتی تھی، پھر جانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا، پھر وضو کرتا اور واپس آتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے، ( کیونکہ ) آپ اسے خوب لمبی کرتے تھے۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ آپ ہمیں ظہر پڑھاتے تھے تو آپ پہلی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے، اور یونہی کبھی ایک آدھ آیت ہمیں سنا دیتے، اور ظہر اور فجر کی پہلی رکعت بہ نسبت دوسری رکعت کے لمبی کرتے تھے ۱؎۔
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر میں پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے تھے، اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے، اور پہلی رکعت میں دوسری رکعت کے بہ نسبت قرآت لمبی کرتے تھے۔