قرآني·Qurani
اردو

افتتاح الصلاة

153 احادیث · #876–1028

حدیث 996 — سنن النسائي 11:121
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ امْرَأَةٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ ‏{‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏}‏ ثُلُثُ الْقُرْآنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا أَعْرِفُ إِسْنَادًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا ‏.‏
ابوایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی ) کہتے ہیں: میں کسی حدیث کی اس سے زیادہ بڑی سند نہیں جانتا۔
حدیث 997 — سنن النسائي 11:122
صحیحصحیحضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَامَ مُعَاذٌ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فَطَوَّلَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَفَتَّانٌ يَا مُعَاذُ أَيْنَ كُنْتَ عَنْ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَالضُّحَى وَ ‏{‏ إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عشاء پڑھائی، تو انہوں نے قرأت لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ «سبح اسم ربك الأعلى‏»، «والضحى» اور «إذا السماء انفطرت» کیوں نہیں پڑھتے؟ ۔
حدیث 998 — سنن النسائي 11:123
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ ‏.‏ فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ مُعَاذٌ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ إِذَا أَمَمْتَ النَّاسَ فَاقْرَأْ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ ‏{‏ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ‏}‏ وَ ‏{‏ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ‏}‏ وَ ‏{‏ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ‏}‏ ‏"‏ ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب کو عشاء پڑھائی تو انہوں نے قرأت ان پر طویل کر دی، تو ہم میں سے ایک شخص نے نماز توڑ دی ( اور الگ نماز پڑھ لی ) معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے کہا: وہ منافق ہے، جب یہ بات اس شخص کو معلوم ہوئی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور معاذ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ بپا کرنا چاہتے ہو؟ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك‏» پڑھا کرو ۔
حدیث 999 — سنن النسائي 11:124
صحیحصحیحIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، أَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ ‏.‏
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
حدیث 1000 — سنن النسائي 11:125
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَتَمَةَ فَقَرَأَ فِيهَا بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں «والتین والزیتون»پڑھی۔
حدیث 1001 — سنن النسائي 11:126
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ‏.‏
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی پہلی رکعت میں «والتین والزیتون» پڑھی۔
حدیث 1002 — سنن النسائي 11:127
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى فِي الصَّلاَةِ ‏.‏ فَقَالَ سَعْدٌ أَتَّئِدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ ‏.‏
ابو عون کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگ ہر بات میں تمہاری شکایت کرتے ہیں یہاں تک کہ نماز میں بھی، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پہلی دونوں رکعتوں میں جلد بازی نہیں کرتا ۱؎ اور پچھلی دونوں رکعتوں میں قرأت ہلکی کرتا ہوں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے مجھے یہی توقع ہے۔
حدیث 1003 — سنن النسائي 11:128
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ أَبُو الْحَسَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ دَاوُدَ الطَّائِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ وَقَعَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فِي سَعْدٍ عِنْدَ عُمَرَ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يُحْسِنُ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي بِهِمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ أَخْرِمُ عَنْهَا أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ ‏.‏ قَالَ ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوفہ کے چند لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کر آئے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھاتے، ( عمر رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر ) سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سی نماز پڑھاتا ہوں، اس میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا، پہلی دونوں رکعتوں میں قرأت لمبی کرتا ہوں، اور پچھلی دونوں رکعتوں میں ہلکی کرتا ہوں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سے یہی توقع ہے۔
حدیث 1004 — سنن النسائي 11:129
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنِّي لأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ فَأَخْبَرَنَا بِهِنَّ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان سورتوں کو جانتا ہوں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، وہ بیس سورتیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس رکعتوں میں پڑھتے تھے، پھر انہوں نے علقمہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا، اور اندر لے گئے، پھر علقمہ رضی اللہ عنہ نکل کر باہر ہمارے پاس آئے، تو ہم نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے ہمیں وہ سورتیں بتائیں۔
حدیث 1005 — سنن النسائي 11:130
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ ‏.‏ قَالَ هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ ‏.‏ فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ ‏.‏
ابووائل شفیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگا: میں نے پوری مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لی، تو انہوں نے کہا: یہ تو شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھنا ہوا، مجھے وہ سورتیں معلوم ہیں جو ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، اور جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے، تو انہوں نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا جن میں آپ دو دو سورتیں ایک رکعت میں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔