قرآني·Qurani
اردو

الأذان

62 احادیث · #626–687

حدیث 656 — سنن النسائي 7:31
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( عرفہ سے ) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔
حدیث 657 — سنن النسائي 7:32
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا مَعَهُ بِجَمْعٍ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ ثُمَّ قَالَ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ مَا هَذِهِ الصَّلاَةُ قَالَ هَكَذَا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْمَكَانِ ‏.‏
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔
حدیث 658 — سنن النسائي 7:33
ShadhShadhصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةِ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ ‏.‏
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے ( بھی ) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
حدیث 659 — سنن النسائي 7:34
ShadhShadhصحیح
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی۔
حدیث 660 — سنن النسائي 7:35
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلاَ بَعْدُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں ( اور ) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ۱؎ اور ان دونوں ( نمازوں ) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔
حدیث 661 — سنن النسائي 7:36
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شَغَلَنَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ ‏}‏ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلاَلاً فَأَقَامَ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ فَصَلاَّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلاَّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ فَصَلاَّهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، ( یہ ( واقعہ ) قتال کے سلسلہ میں جو ( آیتیں ) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے ) چنانچہ اللہ عزوجل نے «وكفى اللہ المؤمنين القتال» اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہو گیا ( الاحزاب: ۲۵ ) نازل فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔
حدیث 662 — سنن النسائي 7:37
صحیح Lighairihiصحیحضعیف
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ خندق ( احزاب ) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔
حدیث 663 — سنن النسائي 7:38
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، حَدَّثَهُمْ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَبَسَنَا الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَلَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنَادِيًا فَأَقَامَ لِصَلاَةِ الظُّهْرِ فَصَلَّيْنَا وَأَقَامَ لِصَلاَةِ الْعَصْرِ فَصَلَّيْنَا وَأَقَامَ لِصَلاَةِ الْمَغْرِبِ فَصَلَّيْنَا وَأَقَامَ لِصَلاَةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّيْنَا ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا فَقَالَ ‏ "‏ مَا عَلَى الأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی ( پھر ) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، ( پھر ) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے ( اور ) فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو ۔
حدیث 664 — سنن النسائي 7:39
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ، حَدَّثَهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلاَةِ رَكْعَةٌ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ فَقَالَ نَسِيتَ مِنَ الصَّلاَةِ رَكْعَةً فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الصَّلاَةَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ فَقَالُوا لِي أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ قُلْتُ لاَ إِلاَّ أَنْ أَرَاهُ فَمَرَّ بِي فَقُلْتُ هَذَا هُوَ ‏.‏ قَالُوا هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں ( تو پہچان لوں گا ) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ( رضی اللہ عنہ ) ہیں۔
حدیث 665 — سنن النسائي 7:40
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ ‏.‏ فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ ‏.‏
عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے ، لوگوں نے دیکھا تو وہ ( واقعی ) بکریوں کا چرواہا نکلا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔