أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ أُقِيمَتْ صَلاَةُ الصُّبْحِ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً يُصَلِّي وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيمُ فَقَالَ " أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا " .
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک ازدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز فجر کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم فجر کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟ ۔
حدیث 868 — سنن النسائي 10:92
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ فَرَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ دَخَلَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ قَالَ " يَا فُلاَنُ أَيُّهُمَا صَلاَتُكَ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ " .
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں تھے، اس نے دو رکعت سنت پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: اے فلاں! ان دونوں میں سے تمہاری نماز کون سی تھی، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے؟ یا جو خود سے پڑھی ہے ۱؎۔
حدیث 869 — سنن النسائي 10:93
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، - رضى الله عنه - قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا .
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر: ۲۴ ) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ۔
حدیث 871 — سنن النسائي 10:95
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ زِيَادٍ الأَعْلَمِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم رَاكِعٌ فَرَكَعَ دُونَ الصَّفِّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلاَ تَعُدْ " .
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں تھے، تو انہوں نے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ آپ کی حرص میں اضافہ فرمائے، پھر ایسا نہ کرنا ۱؎۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے، ( سن لو ) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور اس کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے تھے، اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے، اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت پڑھتے، اور جمعہ کے بعد مسجد میں کچھ نہیں پڑھتے یہاں تک کہ جب گھر لوٹ آتے تو دو رکعت پڑھتے۔
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ ہم نے کہا: گرچہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے مگر سن تو لیں، تو انہوں نے کہا: جب سورج یہاں ہوتا ۱؎ جس طرح عصر کے وقت یہاں ہوتا ہے ۲؎ تو آپ دو رکعت ( سنت ) پڑھتے ۳؎، اور جب سورج یہاں ہوتا جس طرح ظہر کے وقت ہوتا ہے تو آپ چار رکعت ( سنت ) پڑھتے ۴؎، اور ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے ۵؎، اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور عصر سے پہلے چار رکعت ( سنت ) پڑھتے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور نبیوں پر اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام کے ذریعہ ۶؎ فصل کرتے۔
حدیث 875 — سنن النسائي 10:99
حسنحسنضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ صَلاَةِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّهَارِ قَبْلَ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ثُمَّ أَخْبَرَنَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْعَلُ التَّسْلِيمَ فِي آخِرِهِ .
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں پوچھا جسے آپ دن میں فرض سے پہلے پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر انہوں نے ہمیں بتایا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سورج ڈھل جاتا دو رکعت پڑھتے، اور نصف النہار ہونے سے پہلے چار رکعت پڑھتے، اور اس کے آخر میں سلام پھیرتے۔