عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کر لے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ «عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر» کے بدلے «سالم بن عبداللہ عن أبيه» کہتے ہیں۔
حدیث 1408 — سنن النسائي 14:45
حسنحسنحسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَصَلَّيْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " . وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَأَلْقُوا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ - قَالَ - فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوا ثِيَابًا فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ثُمَّ جَاءَ الآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا " . فَانَتْهَرَهُ وَقَالَ " خُذْ ثَوْبَكَ " .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں ( مسجد میں ) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی؟ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو ، اور آپ نے ( دوران خطبہ ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ( پچھلے ) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا لو ۱؎۔
حدیث 1409 — سنن النسائي 14:46
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " صَلَّيْتَ " . قَالَ لاَ . قَالَ " قُمْ فَارْكَعْ " .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا ۱؎ ( اور بیٹھ گیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تم نے سنت پڑھ لی؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ اور ( سنت ) پڑھو ۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے ۱؎۔
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی (ام ہشام) کہتی ہیں کہ میں نے «ق والقرآن المجيد» کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ۱؎۔
حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر ( خطبہ دیتے ہوئے ) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
حدیث 1413 — سنن النسائي 14:50
صحیحصحیحIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رضى الله عنهما - وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَ كَلاَمَهُ فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ " صَدَقَ اللَّهُ { إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلاَدُكُمْ فِتْنَةٌ } رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلاَمِي فَحَمَلْتُهُمَا " .
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر سے ) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آ گئے، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا ۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
حدیث 1415 — سنن النسائي 14:52
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ جَالَسْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلاَّ قَائِمًا وَيَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الآخِرَةَ .
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔
حدیث 1416 — سنن النسائي 14:53
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْطُبُ الْخُطْبَتَيْنِ وَهُوَ قَائِمٌ وَكَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔