ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء ۱؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔
حدیث 1969 — سنن النسائي 21:152
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوَالِي مِسْكِينَةٌ فَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ " إِنْ مَاتَتْ فَلاَ تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا " . فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ فَصَلُّوا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ . قَالَ " فَانْطَلِقُوا " . فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ ”اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں“، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، ( رات ) ہم آپ کے پاس آئے ( بھی ) تھے، ( لیکن ) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: ”چلو!“ ( اور ) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہو گئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، ( پھر ) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے، اور ان کی صف بندی کی، ( پھر ) آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا۔
حدیث 1973 — سنن النسائي 21:156
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ " . فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ صَفَّيْنِ .
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی ( نجاشی ) مر گئے ہیں تو تم لوگ اٹھو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“ تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں۔
حدیث 1974 — سنن النسائي 21:157
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي يَوْمَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النَّجَاشِيِّ .
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز ( جنازہ ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، تو ہم کھڑے ہوئے ( اور ) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز ( جنازہ ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔
حدیث 1976 — سنن النسائي 21:159
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ فِي وَسَطِهَا .
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔
عمار رضی الله عنہ کہتے ہیں ایک بچہ اور ایک عورت کا جنازہ آیا، تو بچہ لوگوں سے متصل رکھا گیا، اور عورت اس کے پیچھے ( قبلہ کی طرف ) رکھی گئی، پھر ان دونوں کی نماز جنازہ پڑھی گئی، لوگوں میں ابو سعید خدری، ابن عباس، ابوقتادہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم ( بھی ) تھے، تو میں نے ان ( لوگوں ) سے اس کے متعلق سوال کیا، تو سبھوں نے کہا: یہی سنت ( نبی کا طریقہ ) ہے۔