قرآني·Qurani
اردو

الجنائز

272 احادیث · #1818–2089

حدیث 2018 — سنن النسائي 21:201
صحیحصحیححسن
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ ‏:‏ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏:‏ ‏ "‏ احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الاِثْنَيْنِ وَالثَّلاَثَةَ فِي الْقَبْرِ، وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلاَثَةٍ وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ ‏.‏
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ۔ ( غزوہ ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قبریں ) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ( ایک ہی ) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے۔
حدیث 2019 — سنن النسائي 21:202
صحیحصحیححسن
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا يَقُولُ ‏:‏ أَتَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَىٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ فِي قَبْرِهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کو قبر میں داخل کر دئیے جانے کے بعد آئے، تو آپ نے اسے ( نکالنے کا ) حکم دیا، چنانچہ وہ نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر بٹھایا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی، واللہ اعلم ۱؎۔
حدیث 2020 — سنن النسائي 21:203
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ ‏:‏ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَىٍّ فَأَخْرَجَهُ مِنْ قَبْرِهِ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَتَفَلَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ ‏:‏ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کو اس کی قبر سے نکلوایا، پھر اس کا سر اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اس پر تھو تھو کیا، اور اسے اپنی قمیص پہنائی۔ اور اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، واللہ اعلم۔
حدیث 2021 — سنن النسائي 21:204
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ ‏:‏ دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ فِي الْقَبْرِ فَلَمْ يَطِبْ قَلْبِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ وَدَفَنْتُهُ عَلَى حِدَةٍ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کے ساتھ قبر میں ایک شخص اور دفن کیا گیا تھا، میرا دل خوش نہیں ہوا یہاں تک کہ میں نے اسے نکالا، اور انہیں علاحدہ دفن کیا۔
حدیث 2022 — سنن النسائي 21:205
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَمِّهِ، يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ‏:‏ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ، فَرَأَى قَبْرًا جَدِيدًا فَقَالَ ‏:‏ ‏"‏ مَا هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ‏:‏ هَذِهِ فُلاَنَةُ مَوْلاَةُ بَنِي فُلاَنٍ، فَعَرَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاتَتْ ظُهْرًا وَأَنْتَ نَائِمٌ قَائِلٌ، فَلَمْ نُحِبَّ أَنْ نُوقِظَكَ بِهَا ‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ ‏:‏ ‏"‏ لاَ يَمُوتُ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلاَتِي لَهُ رَحْمَةٌ ‏"‏ ‏.‏
یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو آپ نے ایک نئی قبر دیکھی تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ فلاں قبیلے کی لونڈی ( کی قبر ) ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، وہ دوپہر میں مری تھی، اور آپ قیلولہ فرما رہے تھے، تو ہم نے آپ کو اس کی وجہ سے جگانا پسند نہیں کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور اپنے پیچھے لوگوں کی صف بندی کی، اور آپ نے چار تکبیریں کہیں، پھر فرمایا: ”جب تک میں تمہارے درمیان ہوں جو بھی تم میں سے مرے اس کی خبر مجھے ضرور دو، کیونکہ میری نماز اس کے لیے رحمت ہے“۔
حدیث 2023 — سنن النسائي 21:206
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، ‏:‏ أَخْبَرَنِي مَنْ، مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى قَبْرٍ مُنْتَبِذٍ، فَأَمَّهُمْ وَصَفَّ خَلْفَهُ، قُلْتُ ‏:‏ مَنْ هُوَ يَا أَبَا عَمْرٍو قَالَ ‏:‏ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرا، جو الگ تھلگ تھی، تو آپ نے ان کی امامت کی، اور اپنے پیچھے ان کی صف بندی کی۔ سلیمان کہتے ہیں میں نے ( شعبی ) پوچھا: ابوعمرو! یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔
حدیث 2024 — سنن النسائي 21:207
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ الشَّيْبَانِيُّ أَنْبَأَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِقَبْرٍ مُنْتَبِذٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ ‏.‏ قِيلَ ‏:‏ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ ‏:‏ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏.‏
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی، پوچھا گیا: آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
حدیث 2025 — سنن النسائي 21:208
صحیح Lighairihiصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، - وَهُوَ أَبُو أُسَامَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، ‏:‏ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اسے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔
حدیث 2026 — سنن النسائي 21:209
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ ‏:‏ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَنَازَةِ أَبِي الدَّحْدَاحِ، فَلَمَّا رَجَعَ أُتِيَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَ وَمَشَيْنَا مَعَهُ ‏.‏
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابودحداح رضی اللہ عنہ کے جنازے میں ( شرکت کے لیے ) نکلے، تو جب آپ لوٹنے لگے تو ( آپ کے لیے ) بغیر زین کے ننگی پیٹھ والا ایک گھوڑا لایا گیا، آپ ( اس پر ) سوار ہو گئے، اور ہم آپ کے ہمراہ پیدل چلنے لگے۔
حدیث 2027 — سنن النسائي 21:210
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ ‏:‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ، أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، أَوْ يُجَصَّصَ ‏.‏ زَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ‏:‏ أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ”یا اس پر لکھا جائے“ کا اضافہ ہے ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔