قرآني·Qurani
اردو

الحج

466 احادیث · #2619–3084

حدیث 2759 — سنن النسائي 24:141
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، ح وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ‏.‏
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ وہ بتا رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا جس وقت آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی ہوئی۔
حدیث 2760 — سنن النسائي 24:142
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ، جُرَيْجٍ وَابْنِ إِسْحَاقَ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَأَيْتُكَ تُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِكَ نَاقَتُكَ ‏.‏ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُهِلُّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَانْبَعَثَتْ ‏.‏
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں آپ کو دیکھا کہ جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی ہے تو آپ نے اس وقت تلبیہ پکارا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت تلبیہ پکارا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔
حدیث 2761 — سنن النسائي 24:143
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ يَقْدِرُ أَنْ يَأْتِيَ رَاكِبًا أَوْ رَاجِلاً إِلاَّ قَدِمَ فَتَدَارَكَ النَّاسُ لِيَخْرُجُوا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ أَهِلِّي ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَتْ مُخْتَصَرٌ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو برس تک مدینہ میں رہے، اور حج نہیں کر سکے، پھر ( دسویں سال ) آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا تو کوئی بھی جو سواری سے یا پیدل آ سکتا تھا ایسا بچا ہو جو نہ آیا ہو، لوگ آپ کے ساتھ حج کو جانے کے لیے آتے گئے یہاں تک کہ آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر کو جنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اطلاع بھیجی کہ وہ کیا کریں۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم غسل کر لو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، پھر لبیک پکارو“، تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا اختصار ہے۔
حدیث 2762 — سنن النسائي 24:144
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، رضى الله عنه قَالَ نَفَسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ كَيْفَ تَفْعَلُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبِهَا وَتُهِلَّ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ تو آپ نے انہیں غسل کرنے، کپڑے کا لنگوٹ باندھنے، اور تلبیہ پکارنے کا حکم دیا۔
حدیث 2763 — سنن النسائي 24:145
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِحَجٍّ مُفْرَدٍ وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْىٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ ‏"‏ الْحِلُّ كُلُّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا شَأْنُكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أُحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الآنَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلَتْ ‏.‏ وَوَقَفَتِ الْمَوِاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجَّتِكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ‏"‏ ‏.‏ وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ کا تلبیہ پکارتی ہوئی آئیں۔ یہاں تک کہ جب ہم سرف ۱؎ پہنچے، تو وہ حائضہ ہو گئیں۔ اور اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ جب ہم ( مکہ ) پہنچ گئے اور ہم نے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے۔ تو ہم نے پوچھا: کیا چیزیں ہم پر حلال ہوئیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ساری چیزیں حلال ہو گئی“ ( یہ سن کر ) ہم نے اپنی عورتوں سے جماع کیا، خوشبو لگائی، اور اپنے ( سلے ) کپڑے پہنے، اس وقت ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی رہ گئیں تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھ ذی الحجہ ) کو حج کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ آپ نے پوچھا: ”کیا بات ہے“؟ انہوں نے کہا: بات یہ ہے کہ مجھے حیض آ گیا ہے، اور لوگ حلال ہو گئے ہیں اور میں حلال نہیں ہوئی اور ( ابھی تک ) میں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا ہے ۲؎ اور لوگ اب حج کو جا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں ( عورتوں ) کے لیے مقدر فرما دیا ہے، تم غسل کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا“، اور وقوف کی جگ ہوں ( یعنی منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں وقوف کیا یہاں تک کہ جب وہ حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، صفا اور مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب تم حج و عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں“، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ بات کھٹک رہی ہے کہ میں نے حج سے پہلے عمرے کا طواف نہیں کیا ہے؟ ( پھر عمرہ کیسے ہوا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) سے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! تم انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کروا لاؤ“، یہ واقعہ محصب میں ٹھہرنے والی رات کا ہے ۳؎۔
حدیث 2764 — سنن النسائي 24:146
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ قَالَ ‏"‏ هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس ہدی ہو وہ حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارے، پھر احرام نہ کھولے جب تک کہ ان دونوں سے فارغ نہ ہو جائے“، تو میں مکہ آئی، اور میں حائضہ تھی تو میں نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ ہی صفا و مروہ کی سعی کر سکی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: ”اپنا سر کھول دو، کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ کو جانے دو“، تو میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب میں حج کر چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے عمرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیرے عمرہ کی جگہ میں ہے“، تو جن لوگوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر وہ حلال ہو گئے ( پھر منیٰ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک دوسرا طواف ۱؎ اپنے حج کا کیا، اور جن لوگوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا ( یعنی قران کیا تھا ) تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
حدیث 2765 — سنن النسائي 24:147
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ، أَرَادَتِ الْحَجَّ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَشْتَرِطَ فَفَعَلَتْ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔
حدیث 2766 — سنن النسائي 24:148
حسن Sahihحسن SahihIsnaad Sahih
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الأَحْوَلُ، قَالَ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ خَبَّابٍ، قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الرَّجُلِ، يَحُجُّ يَشْتَرِطُ قَالَ الشَّرْطُ بَيْنَ النَّاسِ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهُ - يَعْنِي عِكْرِمَةَ - فَحَدَّثَنِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ قَالَ ‏ "‏ قُولِي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ ‏"‏ ‏.‏
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني» ”حاضر ہوں، اے اللہ! حاضر ہوں، جہاں تو مجھے روک دے، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی“، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے۔
حدیث 2767 — سنن النسائي 24:149
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ، يُخْبِرَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ قَالَ ‏ "‏ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، آپ مجھے بتائیے، میں کس طرح تلبیہ پکاروں؟ آپ نے فرمایا: ”تم تلبیہ پکارو اور شرط لگا لو کہ ( اے اللہ ) تو جہاں مجھے روک دے گا وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔
حدیث 2768 — سنن النسائي 24:150
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى ضُبَاعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي شَاكِيَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ ‏.‏ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حُجِّي وَاشْتَرِطِي إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ كِلاَهُمَا عَنْ عَائِشَةَ هِشَامٌ وَالزُّهْرِيُّ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ مَعْمَرٍ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیمار ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں؟، آپ نے فرمایا: ”حج کرو اور شرط لگا لو کہ ( اے اللہ ) تو جہاں مجھے روک دے گا میں وہیں حلال ہو جاؤں گی“۔ اسحاق کہتے ہیں: میں نے ( اپنے استاد ) عبدالرزاق سے کہا: ہشام اور زہری دونوں عائشہ ہی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے کہا: ہاں ( ایسا ہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کو معمر کے سوا کسی اور نے بھی زہری سے مسنداً روایت کیا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔