قرآني·Qurani
اردو

الحج

466 احادیث · #2619–3084

حدیث 2849 — سنن النسائي 24:232
صحیحصحیحضعیف
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ ‏.‏
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے اوپری حصہ پر اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔
حدیث 2850 — سنن النسائي 24:233
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، - وَهُوَ ابْنُ عَثْمَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، قَالَ قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ الأَعْرَجَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْىِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ ‏.‏
عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔
حدیث 2851 — سنن النسائي 24:234
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ ‏ "‏ صُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ أَوِ انْسُكْ شَاةً أَىَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: ” ( اس کے کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کر لو گے تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا“۔
حدیث 2852 — سنن النسائي 24:235
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ - قَالَ أَنْبَأَنَا عَمْرٌو، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ - عَنِ الزُّبَيْرِ، - وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ - عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لأَصْحَابِي فَمَسَّ رَأْسِي بِأُصْبُعِهِ فَقَالَ ‏ "‏ انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ ‏"‏ ‏.‏
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہو گئیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: ”جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو“۔
حدیث 2853 — سنن النسائي 24:236
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے ( احرام کے ) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
حدیث 2854 — سنن النسائي 24:237
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ، فَأُوقِصَ ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عَلَى إِثْرِهِ ‏"‏ خَارِجًا رَأْسُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلاَ تُمِسُّوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ وَلاَ تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو“، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: ”اس کا سر کفن سے باہر رہے“، فرمایا: ”اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں: میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ”اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو“۔
حدیث 2855 — سنن النسائي 24:238
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْعَصَهُ - أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ ( راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» ( مذکر کے صیغہ کے ساتھ ) کہا یا «فأقعصته» ( مونث کے صیغہ کے ساتھ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا“۔
حدیث 2856 — سنن النسائي 24:239
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ وَقَصَتْ رَجُلاً مُحْرِمًا نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ وَلاَ تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلاَ تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، ( لیکن ) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ ( قیامت کے دن ) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
حدیث 2857 — سنن النسائي 24:240
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ، - يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ - عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، كَانَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَّهُ لَفَظَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يُغَسَّلُ وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ يُغَطَّى رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا“۔
حدیث 2858 — سنن النسائي 24:241
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں ( احرام کے ) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا“۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔