قرآني·Qurani
اردو

الحج

466 احادیث · #2619–3084

حدیث 3049 — سنن النسائي 24:432
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَائِشَةَ قَالَتْ وَدِدْتُ أَنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ فَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ وَكَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنَ لَهَا فَصَلَّتِ الْفَجْرَ بِمِنًى وَرَمَتْ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے خواہش ہوئی کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کرتی جس طرح سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت طلب کی تھی۔ اور لوگوں کے آنے سے پہلے میں بھی منیٰ میں نماز فجر پڑھتی، سودہ رضی اللہ عنہا بھاری بدن کی سست رفتار عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( پہلے ہی لوٹ جانے کی ) اجازت مانگی۔ تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، تو انہوں نے فجر منیٰ میں پڑھی، اور لوگوں کے پہنچنے سے پہلے رمی کر لی۔
حدیث 3050 — سنن النسائي 24:433
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ مَوْلًى، لأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ قَالَ جِئْتُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ فَقُلْتُ لَهَا لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ ‏.‏ فَقَالَتْ قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ‏.‏
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا۔ میں نے ان سے کہا: ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے ( حالانکہ دن میں آنا چاہیئے ) ، تو انہوں نے کہا: ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے ( یعنی غلس میں آتے تھے ) جو تم سے بہتر تھے۔
حدیث 3051 — سنن النسائي 24:434
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ، مَعَهُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ قَالَ كَانَ يُسَيِّرُ نَاقَتَهُ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ‏.‏
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے لوٹتے وقت کیسے چل رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی اونٹنی کو عام رفتار سے چلا رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو تیز بھگاتے۔
حدیث 3052 — سنن النسائي 24:435
صحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ ‏.‏
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ ‏.‏
حدیث 3053 — سنن النسائي 24:436
صحیح Lighairihiصحیححسن
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ ‏.‏
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا۔
حدیث 3054 — سنن النسائي 24:437
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَفَعَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلاً ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ‏.‏
ابو جعفر محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلے آپ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، یہاں تک کہ وادی محسر پہنچے، تو اونٹ کی رفتار آپ نے قدرے بڑھا دی، پھر آپ نے وہ درمیانی راستہ پکڑا جو تمہیں جمرہ کبریٰ کے پاس لے جا کر نکالے گا یہاں تک کہ آپ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے۔ آپ نے ( وہاں پہنچ کر ) سات ایسی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگوٹھے اور شہادت کی دونوں انگلیوں کے درمیان آ جائیں، ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہہ رہے تھے، آپ نے وادی کی نشیب سے رمی کی۔
حدیث 3055 — سنن النسائي 24:438
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، - وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ - عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ‏.‏
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، تو برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کی۔
حدیث 3056 — سنن النسائي 24:439
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لبیک پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کی۔
حدیث 3057 — سنن النسائي 24:440
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ‏"‏ هَاتِ الْقُطْ لِي ‏"‏ ‏.‏ فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ هُنَّ حَصَى الْخَذْفِ فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ قَالَ بِأَمْثَالِ هَؤُلاَءِ ‏"‏ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ ”میرے لیے کنکریاں چن دو“۔ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ سکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا: ”ایسی ہی ہونی چاہیئے، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کر دیا ہے۔“
حدیث 3058 — سنن النسائي 24:441
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا قَالَ ‏"‏ عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الإِنْسَانُ ‏.‏
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے جس وقت وہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو چلے تو اپنی اونٹنی کو روک کر فرمایا: ”تم لوگ سکون و وقار کو لازم پکڑو“ یہاں تک کہ جب آپ منیٰ میں داخل ہوئے تو جس وقت اترے وادی محسر میں اترے، اور آپ نے فرمایا: ”چھوٹی کنکریوں کو جسے چٹکی میں رکھ کر تم مار سکو لازم پکڑو“، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، جیسے آدمی کنکری کو چٹکی میں رکھ کر مارتا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔