قرآني·Qurani
اردو

السهو

188 احادیث · #1179–1366

حدیث 1249 — سنن النسائي 13:71
ضعیفضعیفحسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
حدیث 1250 — سنن النسائي 13:72
ضعیفضعیفحسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ۔
حدیث 1251 — سنن النسائي 13:73
ضعیفضعیفحسن
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَرَوْحٌ، - هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَجَّاجٌ ‏"‏ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ رَوْحٌ ‏"‏ وَهُوَ جَالِسٌ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ دو سجدے کرے ، حجاج کی روایت میں ہے: سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے ، اور روح کی روایت میں ہے: بیٹھے بیٹھے ( دو سجدے کرے ) ۔
حدیث 1252 — سنن النسائي 13:74
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ صَلاَتَهُ حَتَّى لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اس پر اس کی نماز کو گڈمڈ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ۔
حدیث 1253 — سنن النسائي 13:75
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ حَتَّى لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت کہہ دی جاتی ہے تو وہ واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں گھس کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اس قسم کی صورت حال دیکھے تو وہ دو سجدے کرے ۔
حدیث 1254 — سنن النسائي 13:76
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏ "‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَثَنَى رِجْلَهُ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ ( رکعت ) پڑھی، تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا نماز میں زیادتی کر دی گئی ہے؟ تو آپ نے پوچھا: وہ کیا؟ لوگوں نے کہا: آپ نے پانچ ( رکعت ) پڑھی ہے، تو آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور دو سجدے کیے۔
حدیث 1255 — سنن النسائي 13:77
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ خَمْسًا فَقَالُوا إِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ ‏.‏
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو لوگوں نے عرض کیا: آپ نے پانچ ( رکعت ) پڑھائی ہے، تو آپ نے سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
حدیث 1256 — سنن النسائي 13:78
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ صَلَّى عَلْقَمَةُ خَمْسًا فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ مَا فَعَلْتُ ‏.‏ قُلْتُ بِرَأْسِي بَلَى ‏.‏ قَالَ وَأَنْتَ يَا أَعْوَرُ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ صَلَّى خَمْسًا فَوَشْوَشَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالُوا لَهُ أَزِيدَ فِي الصَّلاَةِ قَالَ ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخْبَرُوهُ فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ‏"‏ ‏.‏
ابراہیم بن سوید کہتے ہیں کہ علقمہ نے پانچ ( رکعت ) نماز پڑھی، تو ان سے ( اس زیادتی کے بارے میں ) کہا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے ( ایسا ) نہیں کیا ہے، تو میں نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے ضرور کیا ہے، انہوں نے کہا: اور تم اس کی گواہی دیتے ہو اے اعور! تو میں نے کہا: ہاں ( دیتا ہوں ) تو انہوں نے دو سجدے کیے، پھر انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھیں، تو لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھسر کرنے لگے، ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ، لوگوں نے آپ کو بتایا ( کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا، اور دو سجدے کیے، پھر فرمایا: میں انسان ہی ہوں، میں ( بھی ) بھول سکتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو ۔
حدیث 1257 — سنن النسائي 13:79
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ سَهَا عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ فِي صَلاَتِهِ فَذَكَرُوا لَهُ بَعْدَ مَا تَكَلَّمَ فَقَالَ أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ فَحَلَّ حُبْوَتَهُ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ وَقَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ الْحَكَمَ يَقُولُ كَانَ عَلْقَمَةُ صَلَّى خَمْسًا ‏.‏
مالک بن مغول کہتے ہیں کہ میں نے ( عامری شراحیل ) شعبی کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ بن قیس سے نماز میں سہو ہو گیا، تو لوگوں نے آپ سے میں گفتگو کرنے کے بعد ان سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے، اے اعور! ( ابراہیم بن سوید نے ) کہا: ہاں، تو انہوں نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا، پھر سہو کے دو سجدے کیے، اور کہنے لگے: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، ( مالک بن مغول ) نے کہا: اور میں نے حکم ( ابن عتیبہ ) کو کہتے ہوئے سنا کہ علقمہ نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھی تھیں۔
حدیث 1258 — سنن النسائي 13:80
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلْقَمَةَ، صَلَّى خَمْسًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ يَا أَبَا شِبْلٍ صَلَّيْتَ خَمْسًا ‏.‏ فَقَالَ أَكَذَلِكَ يَا أَعْوَرُ فَسَجَدَ سَجْدَتَىِ السَّهْوِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابراہیم سے روایت ہے کہ علقمہ نے پانچ ( رکعتیں ) پڑھیں، جب انہوں نے سلام پھیرا، تو ابراہیم بن سوید نے کہا: ابو شبل ( علقمہ ) ! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: کیا ایسا ہوا ہے اے اعور؟ ( انہوں نے کہا: ہاں ) تو علقمہ نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔