ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے، آپ ( تقریباً ) پورے شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔
حدیث 2181 — سنن النسائي 22:92
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَعْبَانَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں روزہ رکھتے تھے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک ہی رات میں سارا قرآن پڑھا ہو، یا پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں۔
حدیث 2183 — سنن النسائي 22:94
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي يُوسُفَ الصَّيْدَلاَنِيُّ، - حَرَّانِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ سَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَمَضَانُ .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا: ( تو ) انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس تسلسل سے ) روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ روزے ( ہی ) رکھتے رہیں گے، اور ( کبھی آپ اس تسلسل سے ) بغیر روزے کے رہتے کہ ہم سمجھتے ( اب ) آپ بغیر روزے کے رہیں گے، اور آپ جب سے مدینہ آئے کبھی آپ نے پورے مہینے روزے نہیں رکھے سوائے اس کے کہ وہ رمضان ہو۔
حدیث 2184 — سنن النسائي 22:95
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - عَنْ كَهْمَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ . قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ لاَ مَا عَلِمْتُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلاَّ رَمَضَانَ وَلاَ أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، ( پھر ) میں نے سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پورے ماہ روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتی کہ آپ نے رمضان کے علاوہ کبھی پورے ماہ کے روزے رکھے ہوں، اور اور نہ ایسا ہی ہوتا کہ آپ پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ہوں، کچھ نہ کچھ روزے ضرور رکھتے یہاں تک کہ آپ وفات پا گئے۔
حدیث 2185 — سنن النسائي 22:96
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا أَبُو الأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي صَلاَةَ الضُّحَى قَالَتْ لاَ إِلاَّ أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ . قُلْتُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ صَوْمٌ مَعْلُومٌ سِوَى رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَى رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ وَلاَ أَفْطَرَ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، الا یہ کہ سفر سے ( لوٹ کر ) آتے، پھر میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے۔
حدیث 2186 — سنن النسائي 22:97
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بَقِيَّةَ، قَالَ حَدَّثَنَا بَحِيرٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَيَتَحَرَّى صِيَامَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ .
جبیر بن نفیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روزوں کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے، اور دو شنبہ ( پیر ) اور جمعرات کے روزے کا اہتمام فرماتے۔
حدیث 2187 — سنن النسائي 22:98
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ وَيَتَحَرَّى الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان اور رمضان میں روزے رکھتے، اور پیر اور جمعرات کے روزے کا خاص خیال رکھتے۔
صلہ بن زفر کہتے ہیں: ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، تو انہوں نے کہا: آؤ تم لوگ بھی کھاؤ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا، اور اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”روزہ رکھو ( چاند ) دیکھ کر، اور افطار کرو ( چاند ) دیکھ کر، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہو جائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ“۔