قرآني·Qurani
اردو

الصيام

345 احادیث · #2090–2434

حدیث 2280 — سنن النسائي 22:191
صحیح Lighairihiصحیححسن
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَلْحَرِيشٍ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَطْعَمُ فَقَالَ ‏"‏ هَلُمَّ فَاطْعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أُحَدِّثُكُمْ عَنِ الصِّيَامِ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”آؤ کھانا کھاؤ“، میں نے عرض کیا: میں روزے سے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں: اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے، اور آدھی نماز کی بھی۔
حدیث 2281 — سنن النسائي 22:192
صحیح Lighairihiصحیححسن
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَأْكُلُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ ‏"‏ هَلُمَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ قَالَ ‏"‏ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا: آؤ ( کھانا کھا لو ) میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، میں نے کہا: کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزے اور آدھی نماز کی“۔
حدیث 2282 — سنن النسائي 22:193
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُوسَى، - هُوَ ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ - عَنْ غَيْلاَنَ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قِلاَبَةَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا فَقَالَ لِرَجُلٍ ‏"‏ ادْنُ فَاطْعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامَ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏ فَادْنُ فَاطْعَمْ فَدَنَوْتُ فَطَعِمْتُ ‏.‏
غیلان کہتے ہیں میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا ( کھانے کے وقت ) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں نکلے، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا: ”قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ“، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ـ: ”اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے“۔ تو اب آؤ کھاؤ، تو میں قریب ہو گیا، اور کھانے لگا۔
حدیث 2283 — سنن النسائي 22:194
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَنَزَلْنَا فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَاتَّخَذْنَا ظِلاَلاً فَسَقَطَ الصُّوَّامُ وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَسَقَوُا الرِّكَابَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالأَجْرِ ‏"‏ ‏.‏
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم ( چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر ) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار ( سخت گرمی کی تاب نہ لا کر ) گر گر پڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے“۔
حدیث 2284 — سنن النسائي 22:195
ضعیف Muqufضعیف Muqufضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ يُقَالُ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ كَالإِفْطَارِ فِي الْحَضَرِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔
حدیث 2285 — سنن النسائي 22:196
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْخَيَّاطِ، وَأَبُو عَامِرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔
حدیث 2286 — سنن النسائي 22:197
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ۱؎۔
حدیث 2287 — سنن النسائي 22:198
صحیح Lighairihiصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔
حدیث 2288 — سنن النسائي 22:199
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں روزہ رکھا، ( اور چلے ) یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے۔
حدیث 2289 — سنن النسائي 22:200
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَامَ فِي السَّفَرِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور ( اسے ) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔