عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے“۔
حدیث 2345 — سنن النسائي 22:256
ضعیف Isnaadضعیف IsnaadIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُفْطِرُ أَيَّامَ الْبِيضِ فِي حَضَرٍ وَلاَ سَفَرٍ .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں ہوں یا سفر میں ایام بیض میں بغیر روزہ کے نہیں رہتے تھے ۱؎۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ روزے رکھنا بند نہیں کریں گے، اور آپ بغیر روزے کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اور آپ جب سے مدینہ آئے رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔
حدیث 2347 — سنن النسائي 22:258
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَرْوَانَ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔
حدیث 2349 — سنن النسائي 22:260
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَهْرًا كَامِلاً مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلاَّ رَمَضَانَ .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ( برابر ) روزہ ہی رکھا کریں گے، اور آپ افطار کرتے ( روزہ نہ رہتے ) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا۔