أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلاَثِينَ " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور ( چاند ) دیکھ کر ( روزہ ) بند کرو، ( پس ) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس ( دن ) پورے کرو“۔
حدیث 2131 — سنن النسائي 22:42
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا فَعَدَدْتُ الأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ " .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ ( تک ) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن ( ہوئے ) ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ”اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو ( تو بہتر ہے ) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں“ ( التحریم: ۴ ) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے ( ابھی ) انتیسویں رات کی ( ہی ) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
حدیث 2134 — سنن النسائي 22:45
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَذَكَرَ، كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا " .
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ( ایک ) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ۱؎۔
حدیث 2136 — سنن النسائي 22:47
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " . يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ . رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کر لیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے «عن أبیہ» کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ ( کبھی ) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور ( کبھی ) تیس دن کا، اور جب تم ( چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو ( تیس کی ) گنتی پوری کرو“۔