قرآني·Qurani
اردو

الصيام

345 احادیث · #2090–2434

حدیث 2160 — سنن النسائي 22:71
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كِلاَهُمَا لاَ يَأْلُو عَنِ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ وَالْفِطْرَ وَالآخَرُ يُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالْفِطْرَ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالْفِطْرَ قَالَ مَسْرُوقٌ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ فَقَالَتْ عَائِشَةُ هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، ( لیکن ) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں؟ مسروق نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے ہیں۔
حدیث 2161 — سنن النسائي 22:72
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ، عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْنَا لَهَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ ‏.‏ فَقَالَتْ أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَتْ هَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَالآخَرُ أَبُو مُوسَى رضى الله عنهما ‏.‏
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ ( دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔)
حدیث 2162 — سنن النسائي 22:73
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَتَسَحَّرُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهَا بَرَكَةٌ أَعْطَاكُمُ اللَّهُ إِيَّاهَا فَلاَ تَدَعُوهُ ‏"‏ ‏.‏
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو“۔
حدیث 2163 — سنن النسائي 22:74
صحیحصحیحIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، - بَصْرِيٌّ - قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَقَالَ ‏ "‏ هَلُمُّوا إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ ‏"‏ ‏.‏
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”آؤ صبح کے مبارک کھانے پر“۔
حدیث 2164 — سنن النسائي 22:75
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ بَقِيَّةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ أَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ عَلَيْكُمْ بِغَدَاءِ السُّحُورِ فَإِنَّهُ هُوَ الْغَدَاءُ الْمُبَارَكُ ‏"‏ ‏.‏
مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کا کھانا ( سحری کو ) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے“۔
حدیث 2165 — سنن النسائي 22:76
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ ‏ "‏ هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي السَّحُورَ ‏.‏
(تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ“۔
حدیث 2166 — سنن النسائي 22:77
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السُّحُورِ ‏"‏ ‏.‏
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، ( وہ ہے ) سحری کھانا“۔
حدیث 2167 — سنن النسائي 22:78
صحیح Isnaadصحیح Isnaadضعیف
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَلِكَ عِنْدَ السُّحُورِ ‏"‏ يَا أَنَسُ إِنِّي أُرِيدُ الصِّيَامَ أَطْعِمْنِي شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ فَأَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ وَإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَذَّنَ بِلاَلٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَنَسُ انْظُرْ رَجُلاً يَأْكُلُ مَعِي ‏"‏ ‏.‏ فَدَعَوْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَجَاءَ فَقَالَ إِنِّي قَدْ شَرِبْتُ شَرْبَةَ سَوِيقٍ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ ‏"‏ ‏.‏ فَتَسَحَّرَ مَعَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ ‏.‏
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ”اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ“، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ ( سحری ) کھائے“، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے ( اور ) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( بھی ) روزہ رکھنا چاہتا ہوں“، ( پھر ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور ( فجر کی ) دو رکعت ( سنت ) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔
حدیث 2168 — سنن النسائي 22:79
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنِي هِلاَلُ بْنُ الْعَلاَءِ بْنِ هِلاَلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ أَحَدَهُمْ، كَانَ إِذَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَشَّى لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ شَيْئًا وَلاَ يَشْرَبَ لَيْلَتَهُ وَيَوْمَهُ مِنَ الْغَدِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا ‏}‏ إِلَى ‏{‏ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ‏}‏ قَالَ وَنَزَلَتْ فِي أَبِي قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو أَتَى أَهْلَهُ وَهُوَ صَائِمٌ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَقَالَ هَلْ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ مَا عِنْدَنَا شَىْءٌ وَلَكِنْ أَخْرُجُ أَلْتَمِسُ لَكَ عَشَاءً ‏.‏ فَخَرَجَتْ وَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَرَجَعَتْ إِلَيْهِ فَوَجَدَتْهُ نَائِمًا وَأَيْقَظَتْهُ فَلَمْ يَطْعَمْ شَيْئًا وَبَاتَ وَأَصْبَحَ صَائِمًا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ هَذِهِ الآيَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ ‏.‏
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «‏‏‏‏وكلوا واشربوا‏» سے لے کر «الخيط الأسود‏» ”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے“ تک نازل ہوئی، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، ( ہوا یہ کہ ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے، وہ روزے سے تھے، انہوں نے ( گھر والوں سے ) پوچھا: کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: ہمارے پاس تو کچھ ( بھی ) نہیں ہے، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں، چنانچہ وہ نکل گئی، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا، ( تو ) انہیں جگایا ( لیکن ) انہوں نے کچھ ( بھی ) نہیں کھایا، اور ( اسی حال میں ) رات گزار دی، اور روزے ہی کی حالت ) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی، تو ان پر غشی طاری ہو گئی، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) انہیں کے سلسلہ میں اتاری۔
حدیث 2169 — سنن النسائي 22:80
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ‏}‏ قَالَ ‏"‏ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ ‏"‏ ‏.‏
عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود‏» کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خيط الأسود» ( سیاہ دھاری ) رات کی تاریکی ہے، ( اور «خيط الأسود» سفید دھاری ) دن کا اجالا ہے“۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔