عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما ۔ ( سورۃ البقرہ کی ) آیت: «ما ننسخ من آية أو ننسها نأت بخير منها أو مثلها» ”جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں“۔ ( البقرہ: ۱۰۶ ) ( اور سورۃ النمل کی ) آیت: «وإذا بدلنا آية مكان آية واللہ أعلم بما ينزل» ”اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے“۔ ( النحل: ۱۰۱ ) ( اور سورۃ الرعد کی ) آیت: «يمحو اللہ ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب» ”اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے لوح محفوظ اسی کے پاس ہے“۔ ( الرعد: ۳۹ ) کے بارے میں فرماتے ہیں: ان آیات کی روشنی میں پہلی چیز جو منسوخ ہوئی وہ قبلہ کی تبدیلی ہے ۱؎، اور ( اس کے بعد ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ( اور یہ جو سورۃ البقرہ کی ) آیت: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ”طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں“۔ ( البقرہ: ۲۲۸ ) اور ( سورۃ الطلاق کی ) آیت: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ”تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے“۔ ( الطلاق: ۴ ) آئی ہے تو ان دونوں آیات سے ( ان کا عموم ) منسوخ ہو گیا ( سورۃ الاحزاب کی اس ) آیت: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» سے ”اگر تم مومنہ عورتوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت کا نہیں جسے تم شمار کرو“۔ ( الاحزاب: ۴۹ ) ۔
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، وہ شوہر کے انتقال پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا شوہر مر گیا ہو اور سرمہ ( و کاجل ) نہ لگانے سے اس کی آنکھوں کے خراب ہو جانے کا خوف و خطرہ ہو تو کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ” ( زمانہ جاہلیت میں ) تمہاری ہر عورت ( اپنے شوہر کے سوگ میں ) اپنے گھر میں انتہائی خراب، گھٹیا و گندا کپڑا ( اونٹ کی کاٹھ کے نیچے کے کپڑے کی طرح ) پہن کر سال بھر گھر میں بیٹھی رہتی تھی، پھر کہیں ( سال پورا ہونے پر ) نکلتی تھی۔ اور اب چار مہینے دس دن بھی تم پر بھاری پڑ رہے ہیں؟“ ۱؎۔
حدیث 3502 — سنن النسائي 27:114
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الأَنْصَارِيِّ، - وَجَدُّهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتَا جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَإِنِّي أَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا أَفَأَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَجْلِسُ حَوْلاً وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَإِذَا كَانَ الْحَوْلُ خَرَجَتْ وَرَمَتْ وَرَاءَهَا بِبَعْرَةٍ " .
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی کے شوہر ( یعنی میرے داماد ) کا انتقال ہو گیا ہے اور مجھے ( عدت میں بیٹھی ) بیٹی کی آنکھ کے خراب ہو جانے کا خوف ہے تو میں اس کی آنکھ میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ( سوگ منانے والی ) عورت زمانہ جاہلیت میں سال بھر بیٹھی رہتی تھی، اور یہ تو چار مہینہ دس دن کی بات ہے، جب سال پورا ہو جاتا تو وہ باہر نکلتی اور اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی“۔
حدیث 3503 — سنن النسائي 27:115
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يَقُولُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں ہے سوائے شوہر کے، شوہر کے انتقال پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
حدیث 3504 — سنن النسائي 27:116
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
بعض امہات المؤمنین اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے، شوہر کے مرنے پر وہ چار ماہ دس دن سوگ منائے گی“۔
حدیث 3505 — سنن النسائي 27:117
ضعیفحسن
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا السَّهْمِيُّ، - يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ - قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ أُمُّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی سے اور بیوی سے مراد ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں۔
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمی رضی اللہ عنہا کو اپنے شوہر کے انتقال کے بعد بچہ جن کر حالت نفاس میں ہوئے کچھ ہی راتیں گزریں تھیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے دوسری شادی کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی اور انہوں نے شادی کر لی۔
حدیث 3507 — سنن النسائي 27:119
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ سُبَيْعَةَ أَنْ تَنْكِحَ إِذَا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا .
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبیعہ رضی اللہ عنہا کو اپنے نفاس سے فراغت کے بعد شادی کرنے کا حکم دیا۔
ابوسنابل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کو مرے ہوئے ۲۳ یا ۲۵ راتیں گزریں تھیں کہ اس نے بچہ جنا پھر جب وہ نفاس سے فارغ ہو گئی تو اس نے ( نئی ) شادی کی تیاری کی اور اس کے لیے زیب و زینت سے مزین ہوئی تو اس کے لیے ایسا کرنا غیر مناسب سمجھا ( اور ناپسند کیا ) گیا اور اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کی گئی تو آپ نے فرمایا: ”جب اس کی عدت پوری ہو چکی ہے تو اب اس کے لیے کیا رکاوٹ ہے؟“ ۱؎۔