قرآني·Qurani
اردو

الطلاق

172 احادیث · #3389–3560

حدیث 3529 — سنن النسائي 27:141
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمَّتِهِ، زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ عَنِ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا، تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ فَقَتَلُوهُ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَتْ إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ وَلاَ يَجْرِي عَلَىَّ مِنْهُ رِزْقٌ أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي وَيَتَامَاىَ وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ قَالَ ‏"‏ افْعَلِي ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كَيْفَ قُلْتِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا قَالَ ‏"‏ اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ ‏"‏ ‏.‏
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چنانچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں ( یعنی ماں باپ ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا کر لو“، پھر ( تھوڑی دیر بعد ) آپ نے فرمایا: ”کیسے بیان کیا تم نے ( ذرا ادھر آؤ تو ) “؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ ( اس پر ) آپ نے فرمایا: ”جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو“۔
حدیث 3530 — سنن النسائي 27:142
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ فُرَيْعَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا، خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلاَجٍ لَهُ فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُّومِ - قَالَتْ - فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ لَهُ النُّقْلَةَ إِلَى أَهْلِي وَذَكَرَتْ لَهُ حَالاً مِنْ حَالِهَا - قَالَتْ - فَرَخَّصَ لِي فَلَمَّا أَقْبَلْتُ نَادَانِي فَقَالَ ‏ "‏ امْكُثِي فِي أَهْلِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ‏"‏ ‏.‏
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے شوہر اپنے ( بھاگے ہوئے کچھ ) غلاموں کی تلاش میں نکلے تو وہ قدوم کے علاقے میں قتل کر دیئے گئے، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہو جانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ سے ( وہاں رہنے کی صورت میں ) اپنے کچھ حالات ( اور پریشانیوں ) کا ذکر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( منتقل ہو جانے کی ) اجازت دے دی۔ پھر میں جانے لگی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”عدت کی مدت پوری ہونے تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہو“
حدیث 3531 — سنن النسائي 27:143
صحیحصحیحصحیح Bukhari
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَسَخَتْ هَذِهِ الآيَةُ عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ غَيْرَ إِخْرَاجٍ ‏}‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آیت «متاعا الی الحول غیر اخراج» … «الی آخرہ» جس میں متوفیٰ عنہا زوجہا کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے ( اور اس کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: «فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في أنفسهن من معروف» ( البقرة: 240 ) ہے، اب عورت جہاں چاہے اور جہاں مناسب سمجھے وہاں عدت کے دن گزار سکتی ہے ۱؎۔
حدیث 3532 — سنن النسائي 27:144
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، قَالَتْ حَدَّثَتْنِي فُرَيْعَةُ بِنْتُ مَالِكٍ، أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَتْ تُوُفِّيَ زَوْجِي بِالْقَدُّومِ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ دَارَنَا شَاسِعَةٌ فَأَذِنَ لَهَا ثُمَّ دَعَاهَا فَقَالَ ‏ "‏ امْكُثِي فِي بَيْتِكِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر کا قدوم ( بستی ) میں انتقال ہو گیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر ( بستی سے ) دور ( الگ تھلگ ) ہے ( تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟ ) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: ”اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے
حدیث 3533 — سنن النسائي 27:147
وَقَالَتْ زَيْنَبُ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا أَفَأَكْحُلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ قَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلاَ شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَىْءٍ إِلاَّ مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا وَتُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ تَفْتَضُّ تَمْسَحُ بِهِ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الْحِفْشُ الْخُصُّ ‏.‏
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ ( آنے والی ) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس ( تعزیت میں ) گئی، ( میں نے دیکھا کہ ) انہوں نے خوشبو منگوائی، ( پہلے ) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر ( میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ( اس لیے میں اپنے والد کے مر جانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں ) ۔ ۲- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر ( مسئلہ بتانے کے لیے ) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ( و اعلان کرتے ) ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ۳- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ ) کہتی ہیں: میں نے ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے ) زمانہ جاہلیت میں تمہاری ( بیوہ ) عورت ( سوگ کا ) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ ( چھوٹی کوٹھری ) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ ( سال پورا ہو جانے کے بعد ) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی ( دبوچتی ) وہ ( مر کر ہی چھٹی پاتا ) مر جاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی ( اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی ) ، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: «تفتض» کا مطلب «تمسح به» کے ہیں ( یعنی اس سے رگڑتی ) ۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: «حفش»،‏‏‏‏ «خص» کو کہتے ہیں ( یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا ) ۔
حدیث 3534 — سنن النسائي 27:148
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَلاَ ثَوْبَ عَصْبٍ وَلاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَمْتَشِطُ وَلاَ تَمَسُّ طِيبًا إِلاَّ عِنْدَ طُهْرِهَا حِينَ تَطْهُرُ نُبَذًا مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ ‏"‏ ‏.‏
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت شوہر کے سوا کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی، نہ رنگ کر کپڑا پہنے، نہ ہی رنگین دھاگے سے بنا ہوا کپڑا ( پہنے ) ، نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے، اور نہ خوشبو ملے۔ ہاں جب حیض سے پاک ہو تو اس وقت تھوڑے سے قسط و اظفار کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے“ ۱؎۔
حدیث 3535 — سنن النسائي 27:149
صحیحصحیحIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لاَ تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلاَ الْمُمَشَّقَةَ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَكْتَحِلُ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا شوہر مر گیا ہے وہ عورت ( عدت کے ایام میں ) کسم کے رنگ کا اور سرخ پھولوں سے رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، خضاب نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے“۔
حدیث 3536 — سنن النسائي 27:150
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ وَلاَ تَكْتَحِلُ وَلاَ تَخْتَضِبُ وَلاَ تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا ‏"‏ ‏.‏
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے علاوہ کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ منائے اور سوگ منانے والی نہ سرمہ لگائے گی، نہ خضاب اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنے گی“۔
حدیث 3537 — سنن النسائي 27:151
ضعیفضعیفضعیف
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا، تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَهَا فَتَكْتَحِلُ الْجِلاَءَ فَأَرْسَلَتْ مَوْلاَةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجِلاَءِ فَقَالَتْ لاَ تَكْتَحِلُ إِلاَّ مِنْ أَمْرٍ لاَ بُدَّ مِنْهُ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبِرًا فَقَالَ ‏"‏ مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ إِنَّمَا هُوَ صَبِرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ فَلاَ تَجْعَلِيهِ إِلاَّ بِاللَّيْلِ وَلاَ تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلاَ بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بِأَىِّ شَىْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ ‏"‏ ‏.‏
ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا ( یعنی اثمد کا ) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے ( سوگ میں ہونے کے بعد ) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آ جائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں ( تو لگا سکتی ہے ) ۔ جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی۔ آپ نے پوچھا: ام سلمہ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ” ( خوشبو تو نہیں ہے لیکن ) یہ چہرے کو جوان ( اور تروتازہ کر دیتا ) ہے۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی ( بہت ضروری ) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو“۔ کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں! آپ نے فرمایا: ”بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو“ ( اور دھو کر کنگھی کرو ) ۔
حدیث 3538 — سنن النسائي 27:152
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، - وَهُوَ ابْنُ مُوسَى - قَالَ حُمَيْدٌ وَحَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي رَمِدَتْ أَفَأَكْحُلُهَا ‏.‏ وَكَانَتْ مُتَوَفًّى عَنْهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَلاَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَتْ إِنِّي أَخَافُ عَلَى بَصَرِهَا فَقَالَ ‏"‏ لاَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا سَنَةً ثُمَّ تَرْمِي عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ بِالْبَعْرَةِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی؟“ اس عورت نے پھر کہا: مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔