قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

324 احادیث · #1–324

حدیث 91 — سنن النسائي 1:91
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَفَعَلَ هَذَا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار جھاڑا، پھر کہنے لگے: یہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔
حدیث 92 — سنن النسائي 1:92
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ أَتَيْنَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - وَقَدْ صَلَّى فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقُلْنَا مَا يَصْنَعُ بِهِ وَقَدْ صَلَّى مَا يُرِيدُ إِلاَّ لِيُعَلِّمَنَا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ فَأَفْرَغَ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ بِهِ الْمَاءَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهُوَ هَذَا ‏.‏
عبد خیر کہتے ہیں کہ ہم لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نماز پڑھ چکے تھے، مگر آپ نے وضو کا پانی طلب کیا، ہم لوگوں نے ( دل میں یا آپس میں ) کہا: وہ اسے کیا کریں گے؟ وہ تو نماز پڑھ چکے ہیں، ( ایسا کر کے ) وہ ہمیں صرف سکھانا چاہتے ہوں گے، چنانچہ ایک برتن جس میں پانی تھا، اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے ہاتھ پر پانی انڈیلا اور اسے تین مرتبہ دھویا، پھر جس ہتھیلی سے پانی لیتے تھے اسی سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر چہرہ تین بار دھویا، اور دایاں ہاتھ تین بار دھویا پھر بایاں ہاتھ تین بار اور اپنے سرکا ایک بار مسح کیا، پھر دایاں پیر تین بار دھویا، اور بایاں پیر تین بار دھویا، پھر کہنے لگے: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرے تو وہ یہی ہے۔
حدیث 93 — سنن النسائي 1:93
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ - عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه أَنَّهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَا بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهٍ ثَلاَثًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا وَأَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ - وَأَشَارَ شُعْبَةُ مَرَّةً مِنْ نَاصِيَتِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ - ثُمَّ قَالَ - لاَ أَدْرِي أَرَدَّهُمَا أَمْ لاَ - وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَذَا طُهُورُهُ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ لَيْسَ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک کرسی لائی گئی تو وہ اس پر بیٹھے، پھر آپ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، اپنے دونوں ہاتھ پر تین بار پانی انڈیلا، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین دفعہ کلی کی اور ناک جھاڑی، اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر پانی لے کر اپنے سرکا مسح کیا، ( شعبہ – جو حدیث کے راوی ہیں – نے اپنی پیشانی سے اپنے سر کے آخر تک ایک بار مسح کر کے دکھایا، پھر کہا: میں نہیں جانتا کہ ان دونوں کو ( گدی سے پیشانی تک ) واپس لائے یا نہیں؟ ) اور اپنے دونوں پیروں کو تین تین بار دھویا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنے کی خواہش ہو تو یہی آپ کا وضو ہے۔
حدیث 94 — سنن النسائي 1:94
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ، - وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ - قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا دَعَا بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ بِكَفٍّ وَاحِدٍ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ غَمَسَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهَذَا وَضُوؤُهُ ‏.‏
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کرسی منگائی، پھر وہ اس پر بیٹھے، پھر ایک برتن میں پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر ایک ہی ہتھیلی سے تین بار کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر برتن میں اپنا ہاتھ ڈبو کر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: جسے خواہش ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھے تو یہی آپ کا وضو ہے۔
حدیث 95 — سنن النسائي 1:95
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قَالَ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي شَيْبَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَلِيٌّ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَالَ دَعَانِي أَبِي عَلِيٌّ بِوَضُوءٍ فَقَرَّبْتُهُ لَهُ فَبَدَأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاَثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاَثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ نَاوِلْنِي فَنَاوَلْتُهُ الإِنَاءَ الَّذِي فِيهِ فَضْلُ وَضُوئِهِ فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا فَعَجِبْتُ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لاَ تَعْجَبْ فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ يَقُولُ لِوُضُوئِهِ هَذَا وَشُرْبِ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا ‏.‏
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا، تو میں نے اسے ( وضو کے پانی کو ) انہیں لا کر دیا، آپ نے وضو کرنا شروع کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور تین بار ( پانی لے کر ) ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ ( بھی ) اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر ( دھویا ) ، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: مجھے ( برتن ) دو، چنانچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا، تو مجھے تعجب ہوا، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے: تعجب نہ کرو، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے۔
حدیث 96 — سنن النسائي 1:96
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، - وَهُوَ ابْنُ قَيْسٍ - قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا - رضى الله عنه - تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ طَهُورُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ابوحیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا اور اپنی ہتھیلیوں کو دھویا یہاں تک کہ انہیں ( خوب ) صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے، اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے کھڑے پی لیا، پھر کہنے لگے کہ میں نے چاہا کہ میں تم لوگوں کو دکھلاؤں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا۔
حدیث 97 — سنن النسائي 1:97
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى - هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ نَعَمْ ‏.‏ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ‏.‏
عمرو بن یحییٰ المازنی کے والد روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا- وہ ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں اور ( عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ) کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے پانی منگایا، اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا، انہیں دو دو بار دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے ( مسح ) شروع کیا پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر جس جگہ سے شروع کیا تھا وہیں انہیں لوٹا لائے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
حدیث 98 — سنن النسائي 1:98
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، - هُوَ ابْنُ أَنَسٍ - عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ - وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى - هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ نَعَمْ ‏.‏ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ‏.‏
یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے ( ان کے باپ عمارہ نے ) عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا – ( وہ عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں ) کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! چنانچہ انہوں نے پانی منگایا، اور اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیل کر اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اپنے سر کے اگلے حصہ سے ( مسح ) شروع کیا، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے، پھر انہیں واپس لے آئے یہاں تک کہ اسی جگہ لوٹا لائے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔
حدیث 99 — سنن النسائي 1:99
ShadhShadhضعیف
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، - الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ - قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ ‏.‏
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ۔ ( جنہیں خواب میں کلمات اذان بتلائے گئے تھے ۱؎ ) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، تو اپنا چہرہ تین بار اور اپنے دونوں ہاتھ دو بار دھوئے، اور اپنے دونوں پاؤں دو بار دھوئے، اور دو بار ۲؎ اپنے سر کا مسح کیا۔
حدیث 100 — سنن النسائي 1:100
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، سَالِمٌ سَبَلاَنُ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَعْجِبُ بِأَمَانَتِهِ وَتَسْتَأْجِرُهُ فَأَرَتْنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ فَتَمَضْمَضَتْ وَاسْتَنْثَرَتْ ثَلاَثًا وَغَسَلَتْ وَجْهَهَا ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَتْ يَدَهَا الْيُمْنَى ثَلاَثًا وَالْيُسْرَى ثَلاَثًا وَوَضَعَتْ يَدَهَا فِي مُقَدَّمِ رَأْسِهَا ثُمَّ مَسَحَتْ رَأْسَهَا مَسْحَةً وَاحِدَةً إِلَى مُؤَخَّرِهِ ثُمَّ أَمَرَّتْ يَدَيْهَا بِأُذُنَيْهَا ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْخَدَّيْنِ قَالَ سَالِمٌ كُنْتُ آتِيهَا مُكَاتَبًا مَا تَخْتَفِي مِنِّي فَتَجْلِسُ بَيْنَ يَدَىَّ وَتَتَحَدَّثُ مَعِي حَتَّى جِئْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْتُ ادْعِي لِي بِالْبَرَكَةِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ‏.‏ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ أَعْتَقَنِي اللَّهُ ‏.‏ قَالَتْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ ‏.‏ وَأَرْخَتِ الْحِجَابَ دُونِي فَلَمْ أَرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ ‏.‏
ابوعبداللہ سالم سبلان کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی امانت پر تعجب کرتی تھیں، اور ان سے اجرت پر کام لیتی تھیں، چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کرتے تھے؟ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہا نے تین بار کلی کی، اور ناک جھاڑی اور تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر تین بار اپنا دایاں ہاتھ دھویا، اور تین بار بایاں، پھر اپنا ہاتھ اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، اور اپنے سر کا اس کے پچھلے حصہ تک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں پر پھیرا، پھر دونوں رخساروں پر پھیرا، سالم کہتے ہیں: میں بطور مکاتب ( غلام ) کے ان کے پاس آتا تھا اور آپ مجھ سے پردہ نہیں کرتی تھیں، میرے سامنے بیٹھتیں اور مجھ سے گفتگو کرتی تھیں، یہاں تک کہ ایک دن میں ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: ام المؤمنین! میرے لیے برکت کی دعا کر دیجئیے، وہ بولیں: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ نے مجھے آزادی دے دی ہے، انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت سے نوازے، اور پھر آپ نے میرے سامنے پردہ لٹکا دیا، اس دن کے بعد سے میں نے انہیں نہیں دیکھا۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔