قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

324 احادیث · #1–324

حدیث 141 — سنن النسائي 1:142
صحیحصحیحIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا خَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلاَّ بِثَلاَثَةِ أَشْيَاءَ فَإِنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلاَ نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلاَ نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ ‏.‏
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں ( یعنی بنی ہاشم کو ) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ۱؎ ( پہلی یہ کہ ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں، ( دوسری یہ کہ ) ہم صدقہ نہ کھائیں، اور ( تیسری یہ کہ ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں۔
حدیث 142 — سنن النسائي 1:143
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامل وضو کرو ۔
حدیث 143 — سنن النسائي 1:144
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِمَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۱؎۔
حدیث 144 — سنن النسائي 1:145
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلاَسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ فَقَالَ عَاصِمٌ يَا أَبَا أَيُّوبَ فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ ‏.‏ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ ‏"‏ ‏.‏ أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ قَالَ نَعَمْ ‏.‏
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو ، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں ( ایسے ہی ہے ) ۔
حدیث 145 — سنن النسائي 1:146
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، أَخْبَرَ أَبَا بُرْدَةَ، فِي الْمَسْجِدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ ‏"‏ ‏.‏
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے ۔
حدیث 146 — سنن النسائي 1:147
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمْرَانَ، مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّ عُثْمَانَ، - رضى الله عنه - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا مِنِ امْرِئٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلاَةَ إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلاَةِ الأُخْرَى حَتَّى يُصَلِّيَهَا ‏"‏ ‏.‏
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حدیث 147 — سنن النسائي 1:148
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، - هُوَ ابْنُ سَعْدٍ - قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى، سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ وَأَبُو طَلْحَةَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ قَالُوا سَمِعْنَا أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ، يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ الْوُضُوءُ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا الْوُضُوءُ فَإِنَّكَ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَغَسَلْتَ كَفَّيْكَ فَأَنْقَيْتَهُمَا خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ بَيْنِ أَظْفَارِكَ وَأَنَامِلِكَ فَإِذَا مَضْمَضْتَ وَاسْتَنْشَقْتَ مَنْخِرَيْكَ وَغَسَلْتَ وَجْهَكَ وَيَدَيْكَ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَمَسَحْتَ رَأْسَكَ وَغَسَلْتَ رِجْلَيْكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ اغْتَسَلْتَ مِنْ عَامَّةِ خَطَايَاكَ فَإِنْ أَنْتَ وَضَعْتَ وَجْهَكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَرَجْتَ مِنْ خَطَايَاكَ كَيَوْمَ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَقُلْتُ يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ أَكُلُّ هَذَا يُعْطَى فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَدَنَا أَجَلِي وَمَا بِي مِنْ فَقْرٍ فَأَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَقَدْ سَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وضو کا ثواب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کا ثواب یہ ہے کہ: جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے ( زمین ) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا ۱؎۔
حدیث 148 — سنن النسائي 1:149
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيِّ، وَأَبِي، عُثْمَانَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، - رضى الله عنه - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ‏ "‏ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فُتِّحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ‏"‏ ‏.‏
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو ۔
حدیث 149 — سنن النسائي 1:150
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ خَلَفٍ، - وَهُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ - عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ وَكَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْلُغَ إِبْطَيْهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوءُ فَقَالَ لِي يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَا هُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَا هُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ سَمِعْتُ خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ تَبْلُغُ حِلْيَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏
ابوحازم کہتے ہیں کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنے دونوں ہاتھ دھو رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دونوں بغلوں تک پہنچ جاتے تھے، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! یہ کون سا وضو ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: اے بنی فروخ! تم لوگ یہاں ہو! ۱؎ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں یہ وضو نہیں کرتا ۲؎، میں نے اپنے خلیل ( گہرے دوست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا ۳؎۔
حدیث 150 — سنن النسائي 1:151
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ ‏"‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ وَدِدْتُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ إِخْوَانَنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا إِخْوَانَكَ قَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ يَأْتِي بَعْدَكَ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ ‏"‏ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لِرَجُلٍ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ فِي خَيْلٍ بُهْمٍ دُهْمٍ أَلاَ يَعْرِفُ خَيْلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ‏"‏ ‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» مومن قوم کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے صحابہ ( ساتھی ) ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی ( دنیا میں ) نہیں آئے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ قیامت کے دن ( میدان حشر میں ) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ۱؎۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔