قرآني·Qurani
اردو

الطهارة

324 احادیث · #1–324

حدیث 241 — سنن النسائي 1:242
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، - رضى الله عنها - زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَفَأَنْقُضُهَا عِنْدَ غَسْلِهَا مِنَ الْجَنَابَةِ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلاَثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَى جَسَدِكِ ‏"‏ ‏.‏
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کی چوٹی مضبوط باندھتی ہوں، تو کیا اسے غسل جنابت کے وقت کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لو، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہا لو ۔
حدیث 242 — سنن النسائي 1:243
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا أَشْهَبُ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، وَهِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، حَدَّثَاهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِالْعُمْرَةِ فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ لَمْ يَرْوِهِ أَحَدٌ إِلاَّ أَشْهَبُ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر میں مکہ پہنچی تو حائضہ ہو گئی، تو میں نہ خانہ کعبہ کا طواف کر سکی، نہ صفا و مروہ کے بیچ سعی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرہ چھوڑ دو ، چنانچہ میں نے ( ایسا ہی ) کیا، تو جب ہم نے حج پورا کر لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا ( وہاں سے میں عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ آئی اور ) میں نے عمرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے اس عمرہ کی جگہ ہے ( جو حیض کی وجہ سے تجھ سے چھوٹ گیا تھا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( امام نسائی رحمہ اللہ ) کہتے ہیں: ہشام بن عروہ کے واسطے سے مالک کی یہ حدیث غریب ہے، مالک سے یہ حدیث صرف اشہب نے ہی روایت کی ہے۔
حدیث 243 — سنن النسائي 1:244
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ وُضِعَ لَهُ الإِنَاءُ فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا الإِنَاءَ حَتَّى إِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ ثُمَّ صَبَّ بِالْيُمْنَى وَغَسَلَ فَرْجَهُ بِالْيُسْرَى حَتَّى إِذَا فَرَغَ صَبَّ بِالْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ ‏.‏
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو آپ کے لیے پانی کا برتن رکھا جاتا، آپ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ جب اپنے ہاتھ دھو لیتے تو اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کرتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے پانی ڈالتے اور بائیں سے اپنی شرمگاہ دھوتے، یہاں تک کہ جب فارغ ہو جاتے تو داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور دونوں ہاتھ دھوتے، پھر تین بار کلی کرتے، اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے لپ بھربھر کر تین بار اپنے سر پر پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر ( پانی ) بہاتے۔
حدیث 244 — سنن النسائي 1:245
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُفْرِغُ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ يَغْسِلُ فَرْجَهُ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ‏.‏
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری مدنی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر اپنی شرمگاہ دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔
حدیث 245 — سنن النسائي 1:246
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُؤْتَى بِالإِنَاءِ فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاَثًا فَيَغْسِلُهُمَا ثُمَّ يَصُبُّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ مَا عَلَى فَخِذَيْهِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ‏.‏
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( پانی کا ) برتن لایا جاتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے، اور انہیں دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی دونوں رانوں کی نجاست دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، کلی کرتے، پھر ناک میں پانی ڈالتے، اور اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔
حدیث 246 — سنن النسائي 1:247
صحیح Isnaadصحیح Isnaadحسن
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ قَالَتْ كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ - قَالَ عُمَرُ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ يَتَمَضْمَضُ ثَلاَثًا وَيَسْتَنْشِقُ ثَلاَثًا وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ثُمَّ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ ‏.‏
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرمگاہ اور اس پر لگی ہوئی نجاست دھوتے، عمر بن عبید کہتے ہیں: میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے ( عطا بن سائب ) کہا: آپ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر تین بار پانی ڈالتے، پھر تین بار کلی کرتے، تین بار ناک میں پانی ڈالتے، اور تین بار اپنا چہرہ دھوتے، پھر تین بار اپنے سر پر پانی بہاتے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالتے ۱؎۔
حدیث 247 — سنن النسائي 1:248
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَوَضَّأَ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ الْمَاءَ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ غُرَفٍ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهِ كُلِّهِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے، تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر وضو کرتے، جیسے آپ نماز کے لیے وضو کرتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈال کر ان سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، پھر اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالتے، پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہاتے۔
حدیث 248 — سنن النسائي 1:249
صحیحصحیحIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَحْيَى، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، - رضى الله عنها - عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ أَنَّهُ كَانَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ رَأْسَهُ حَتَّى يَصِلَ إِلَى شَعْرِهِ ثُمَّ يُفْرِغُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ ‏.‏
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، وضو کرتے اور اپنے سر کا خلال کرتے یہاں تک کہ ( پانی ) آپ کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جاتا، پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالتے۔
حدیث 249 — سنن النسائي 1:250
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُشَرِّبُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَحْثِي عَلَيْهِ ثَلاَثًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو پانی پلاتے تھے یعنی سر کا خلال کرتے تھے، پھر اس پر تین لپ پانی ڈالتے۔
حدیث 250 — سنن النسائي 1:251
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ إِنِّي لأَغْسِلُ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلاَثَ أَكُفٍّ ‏"‏ ‏.‏
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل کے سلسلے میں جھگڑ پڑے، قوم کا ایک شخص کہنے لگا: میں اس اس طرح غسل کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا میں تو میں اپنے سر پر تین لپ پانی بہاتا ہوں ۔
مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔