ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے پھر اس میں جنابت کا غسل کیا جائے۔
حدیث 399 — سنن النسائي 4:4
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کیا جائے، پھر اسی سے غسل کیا جائے۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے گناہوں اور خطاؤں سے پاک کر دے، اے اللہ! مجھے اس سے اسی طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے ۔
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی کے ذریعہ پاک کر دے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔
عبداللہ بن ابوقیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حالت جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے سوتے تھے؟ کیا آپ سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سوتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب کرتے تھے، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی ( صرف ) وضو کر کے سو جاتے۔
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، تو میں نے ان سے سوال کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ تو انہوں نے کہا: دونوں طرح سے ( کرتے تھے ) ، کبھی رات کے ابتدائی حصہ میں غسل کرتے، اور کبھی آخری حصہ میں، اس پر میں نے کہا: اس اللہ کی تعریف ہے جس نے شریعت مطہرہ والے معاملہ کے اندر گنجائش رکھی ہے۔