قرآني·Qurani
اردو

الغسل والتيمم

52 احادیث · #396–447

حدیث 426 — سنن النسائي 4:31
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا اغْتَسَلَ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثًا ‏.‏
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے۔
حدیث 427 — سنن النسائي 4:32
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهُورِ قَالَ ‏"‏ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَ ‏"‏ تَوَضَّئِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا قَالَتْ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَبَّحَ وَأَعْرَضَ عَنْهَا فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ لِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ فَأَخَذْتُهَا وَجَبَذْتُهَا إِلَىَّ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں طہارت کے وقت کیسے غسل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مشک کا ایک پھاہا لو، اور اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے کہا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے پاکی حاصل کرو ، اس نے ( پھر ) عرض کیا: میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا، اور اس سے اپنا رخ مبارک پھیر لیا، عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو سمجھ گئیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتانا چاہ رہے تھے، آپ کہتی ہیں: تو میں نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہ رہے تھے اسے بتایا ۔
حدیث 428 — سنن النسائي 4:33
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتِ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ ‏.‏
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎۔
حدیث 429 — سنن النسائي 4:34
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ ‏.‏ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ ‏ "‏ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَثْفِرِي ثُمَّ أَهِلِّي ‏"‏ ‏.‏
محمد (باقر) کہتے ہیں: ہم لوگ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ہم نے ان سے حجۃ الوداع کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچیس ذی قعدہ کو ( مدینہ سے ) نکلے، ہم آپ کے ساتھ تھے، یہاں تک کہ جب آپ ذوالحلیفہ آئے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابوبکر کو جنا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تم غسل کر لو، پھر لنگوٹ باندھ لو، پھر ( احرام باندھ کر ) لبیک پکارو ۔
حدیث 430 — سنن النسائي 4:35
صحیحصحیحضعیف
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
حدیث 431 — سنن النسائي 4:36
صحیحصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ، - وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ - قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا ‏.‏
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس جاتے ۱؎ پھر آپ محرم ہو کر صبح کرتے، اور آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹتی ہوتی ۲؎۔
حدیث 432 — سنن النسائي 4:37
صحیحصحیحصحیح - Agreed Upon
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَنْبَأَنَا سَيَّارٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَ الرَّجُلَ مِنْ أُمَّتِي الصَّلاَةُ يُصَلِّي وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَمْ يُعْطَ نَبِيٌّ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً ‏"‏ ‏.‏
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ۱؎: ایک مہینہ کی مسافت پر رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎، میرے لیے پوری روئے زمین مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے، تو میری امت کا کوئی فرد جہاں بھی نماز کا وقت پا لے، نماز پڑھ لے، اور مجھے شفاعت ( عظمیٰ ) عطا کی گئی ہے، یہ چیز مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی، اور میں سارے انسانوں کی طرف ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ہوں، اور ( مجھ سے پہلے ) نبی خاص اپنی قوم کے لیے بھیجے جاتے تھے ۔
حدیث 433 — سنن النسائي 4:38
صحیحصحیحIsnaad Hasan
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ نَافِعٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ، تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلاَتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ فَسَأَلاَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ ‏"‏ أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلاَتُكَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِلآخَرِ ‏"‏ أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ ‏"‏ ‏.‏
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا: تم نے سنت کے موافق عمل کیا، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی ، اور دوسرے سے فرمایا: رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے ۔
حدیث 434 — سنن النسائي 4:40
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنْبَأَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا، أَخْبَرَهُمْ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ أَصَبْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرُ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى فَأَتَاهُ فَقَالَ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِلآخَرِ يَعْنِي ‏"‏ أَصَبْتَ ‏"‏ ‏.‏
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک شخص جنبی ہو گیا، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا، تو اس نے تیمم کیا، اور نماز پڑھ لی، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا۔
حدیث 435 — سنن النسائي 4:41
صحیح Isnaadصحیح Isnaadصحیح
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ تَذَاكَرَ عَلِيٌّ وَالْمِقْدَادُ وَعَمَّارٌ فَقَالَ عَلِيٌّ إِنِّي امْرَؤٌ مَذَّاءٌ وَإِنِّي أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَكَانِ ابْنَتِهِ مِنِّي فَيَسْأَلُهُ أَحَدُكُمَا فَذَكَرَ لِي أَنَّ أَحَدَهُمَا وَنَسِيتُهُ سَأَلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ذَاكَ الْمَذْىُ إِذَا وَجَدَهُ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ أَوْ كَوُضُوءِ الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ علی، مقداد اور عمار رضی اللہ عنہم نے آپس میں بات کی، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے بہت مذی آتی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس کے بارے میں ) پوچھنے سے شرماتا ہوں، اس لیے کہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، تو تم دونوں میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ( عطاء کہتے ہیں: ) ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ذکر کیا کہ ان دونوں میں سے ایک نے ( میں اس کا نام بھول گیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مذی ہے، جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اسے اپنے جسم سے دھو لے، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ، راوی کو شک ہے «وضوئه للصلاة» کہا یا «كوضوء الصلاة» کہا۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔