قرآني·Qurani
اردو

المواقيت

132 احادیث · #494–625

حدیث 624 — سنن النسائي 6:131
صحیح Isnaadصحیح IsnaadIsnaad Sahih
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي سَفَرٍ لَهُ ‏"‏ مَنْ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ لاَ نَرْقُدَ عَنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ بِلاَلٌ أَنَا ‏.‏ فَاسْتَقْبَلَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ فَضُرِبَ عَلَى آذَانِهِمْ حَتَّى أَيْقَظَهُمْ حَرُّ الشَّمْسِ فَقَامُوا فَقَالَ ‏"‏ تَوَضَّئُوا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّوْا رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ثُمَّ صَلَّوُا الْفَجْرَ ‏.‏
جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک سفر میں فرمایا: آج رات کون ہماری نگرانی کرے گا تاکہ ہم فجر میں سوئے نہ رہ جائیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر انہوں نے سورج نکلنے کی جانب رخ کیا، تو ان پر ایسی نیند طاری کر دی گئی کہ کوئی آواز ان کے کان تک پہنچ ہی نہیں سکی یہاں تک کہ سورج کی گرمی نے انہیں بیدار کیا، تو وہ اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ وضو کرو ، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت فجر کی سنت پڑھی، اور لوگوں نے بھی فجر کی دو رکعت سنت پڑھی، پھر لوگوں نے فجر پڑھی۔
حدیث 625 — سنن النسائي 6:132
MunkarMunkarضعیف
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَدْلَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ عَرَّسَ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ بَعْضُهَا فَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى وَهِيَ صَلاَةُ الْوُسْطَى ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چلے، پھر رات کے آخری حصہ میں سونے کے لیے پڑاؤ ڈالا، تو آپ جاگ نہیں سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، یا اس کا کچھ حصہ نکل آیا، اور آپ نماز نہیں پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج اوپر چڑھ آیا، پھر آپ نے نماز پڑھی، اور یہی «صلوٰۃ وسطی» ہے ۱؎۔
→ پچھلا مجموعے پر واپس اگلا ←

صرف صحیح اور حسن درجے کی روایات دکھائی جاتی ہیں۔