أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِسَبْعِ سِنِينَ وَدَخَلَ عَلَىَّ لِتِسْعِ سِنِينَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں سات سال کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور جب میں نو برس کی ہوئی تو مجھ سے خلوت فرمائی ۱؎۔
حدیث 3257 — سنن النسائي 26:62
صحیح Lighairihiصحیحصحیح
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِتِسْعِ سِنِينَ وَصَحِبْتُهُ تِسْعًا .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور نو ہی برس میں آپ کی صحبت میں رہی ( پھر آپ رحلت فرما گئے ) ۔
حدیث 3258 — سنن النسائي 26:63
صحیحصحیحصحیح Muslim
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب آپ نے انہیں چھوڑ کر انتقال فرمایا تو اس وقت وہ اٹھارہ برس کی ہو چکی تھیں۔
حدیث 3259 — سنن النسائي 26:64
صحیحصحیححسن
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رضى الله عنه حَدَّثَنَا قَالَ يَعْنِي تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ - قَالَ عُمَرُ فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ قَالَ قُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ . قَالَ سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي أَنْ لاَ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا . قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رضى الله عنه فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ زَوَّجْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ . فَصَمَتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَىَّ شَيْئًا فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَىَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَىَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا . قَالَ عُمَرُ قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا فِيمَا عَرَضْتَ عَلَىَّ إِلاَّ أَنِّي قَدْ كُنْتُ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ ذَكَرَهَا وَلَمْ أَكُنْ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَوْ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبِلْتُهَا .
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابی رسول خنیس بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، ان کے انتقال سے حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ ان کے سامنے پیش کیا، اور کہا کہ اگر آپ پسند کریں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دیتا ہوں، انہوں نے کہا: میں اپنے بارے میں غور کر کے بتاؤں گا، میں کئی دن ٹھہرا ( انتظار کرتا ) رہا، پھر وہ مجھ سے ملے اور کہا: میرے غور و فکر میں یہی آیا ہے کہ میں ان دنوں شادی نہ کروں۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ سے آپ کی شادی کر دوں، ( یہ سن کر ) ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش رہے، اور مجھے کچھ بھی جواب نہ دیا۔ مجھے ان پر عثمان رضی اللہ عنہ کے مقابل میں زیادہ ہی غصہ آیا، پھر چند ہی راتیں گزری تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: غالباً آپ کو اس وقت بڑا غصہ آیا ہو گا جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کی پیشکش کی تھی اور ( میری جانب سے ) آپ کو کوئی جواب نہ ملا، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ کی پیش کش کا جواب نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ مجھے معلوم تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ کا ذکر فرما چکے تھے اور میں آپ کا راز فاش کرنے والا نہیں تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں انہیں قبول کر لیتا۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری ( لڑکی ) سے اس کی شادی کی اجازت لی جائے گی۔ اور اس کی اجازت ( اس سے پوچھے جانے پر ) اس کا خاموش رہنا ہے“ ۲؎۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے ( رشتہ کے ) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے۔ اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنے نفس کی خود مالک ہے۔ ( شادی کرے گی ) اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ ( غیر کنواری ) عورت پر ولی کا کچھ اختیار نہیں ہے، اور «یتیمہ» کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ ( و اجازت ) لی جائے گی، اور ( جواباً ) اس کی خاموشی اس کی اجازت مانی جائے گی“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ ( غیر کنواری ) عورت اپنے آپ کے بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ( کہ شادی کرے تو کس سے کرے یا نہ کرے ) اور کنواری لڑکی کی شادی باپ اس کی اجازت لے کر کرے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے“۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت کی شادی اس کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور نہ ہی کنواری کی شادی اس کی مرضی جانے بغیر کی جائے“، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیسے جانی جائے؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے“ ۲؎۔